Featured Post

بداية المتعلم: کلمے، دعائیں، وضو، غسل اور نماز

  Click here to read/download (PDF) بسم الله الرحمن الرحيم اسلام کے کلمے کلمۂ طیبہ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُو ْ لُ ال...

Wednesday, May 10, 2017

فضل ليلة النصف من شعبان

فضل ليلة النصف من شعبان

الترغيب والترهيب من الحديث الشريف للحافظ عبد العظيم المُنذري رحمه الله المتوفى سنة ٦٥٦ه

1.    وعن معاذ بن جبل رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: يطلع الله إلى جميع خلقه ليلة النصف من شعبان فيغفر لجميع خلقه إلا لمشرك أو مشاحن. رواه الطبراني في الأوسط وابن حبان في صحيحه والبيهقي، ورواه ابن ماجه بلفظه من حديث أبي موسى الأشعري، والبزار والبيهقي من حديث أبي بكر الصديق رضي الله عنه بنحوه بإسناد لا بأس به.
2.    وعن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يطلع الله عز وجل إلى خلقه ليلة النصف من شعبان، فيغفر لعباده إلا اثنين: مشاحن، وقاتل نفس. رواه أحمد بإسناد لين.

Virtues of the 15th Night of Sha’ban

By Imam Hafiz ‘Abdul ‘Azeem Almunziri R.A. (d. 656 A.H.)
  1. From Mu’adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him), from the Prophet , he said: “Allah bestows His special attention to His entire creation on the 15th night of Sha‘ban. He then forgives His entire creation except a polytheist and one who harbours enmity.”
  2. Imam Ahmad narrated from ‘Abdullah ibn ‘Amr (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah  said: “Allah, Glorified and Exalted is He, bestows His special attention to His entire creation on the 15th night of Sha‘ban. He then forgives His creation except two: one who harbours enmity and the murderer.”
  3. From Makhul, from Kaseer ibn Murrah, from the Prophet , he said: “In the 15th night of Sha‘ban, Allah forgives the people of the earth except the polytheist or the one who harbours ill thoughts.” 

Sunday, February 26, 2017

کلام جناب کامل الٰہ آبادی صاحب

مورخہ ۱۳؍ جنوری ۲۰۱۷ء کو مسجد نور، ڈونگری، ممبئی میں جناب کامل الٰہ آبادی چائلی صاحب دامت برکاتھم کی تشریف آوری کے موقعہ پر جناب موصوف نے اپنے چند اشعار حاضرین مجلس کے سامنے پیش کئے۔

Monday, December 12, 2016

عظمت ونسبت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم

عظمت ونسبت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان پر حضرت مولانا سلمان صاحب بجنوری دامت برکاتھم (استاذ دار العلوم دیوبند) کا نہایت جامع بیان در اجلاس تحفظ سنت وعظمت صحابہ منعقد کردہ انجمن اھل سنت والجماعت ممبئی بتاریخ ۱۱ ربیع الاول ۱۴۳۸ھ م ۱۱ دسمبر ۲۰۱۶ء

مناجات، ذکر، نعت

مورخہ ۱۱ ربیع الاول ۱۴۳۸ھ م ۱۱ دسمبر ۲۰۱۶ء انجمن اھل سنت و الجماعت ممبئی کے زیر اہتمام تحفظ سنت وعظمت صحابہ کانفرنس میں حضرت مولانا قاری احسان محسن صاحب دامت برکاتھم کے ذریعہ پیش کردہ کلام : مناجات باری تعالی ۔ ذکر اللہ ۔ نعت: سرور دیں ۔ میرا نبی 
 

Tuesday, November 1, 2016

امر بالمعروف ونہی عن المنکر

وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
(آل عمران: ١۰٤)

اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونا ضرور ہے کہ (اور لوگوں کو بھی) خیر کی طرف بُلایا کریں اور نیک کاموں کے کرنے کو کہا کریں اور بُرے کاموں سے روکا کریں اور ایسے لوگ (آخرت میں ثواب سے) پورے کامیاب ہونگے۔

ف: تفصیل اس مسئلہ کی یہ ہے کہ جو شخص امر بالمعروف ونہی عن المنکر پر قادر ہو یعنی قرائن سے غالب گمان رکھتا ہے کہ اگر میں امرونہی کرونگا تو مجھ کو کوئی ضرر معتد بہ لاحق نہ ہوگا اُس کے لئے امور واجبہ میں امرونہی کرنا واجب ہے اور امور مستحبہ میں مستحب مثلا نماز پنجگانہ فرض ہے تو ایسے شخص پر واجب ہوگا کہ بے نماز کو نصیحت کرے اور نوافل مستحب ہیں اُس کی نصیحت کرنا مستحب ہوگا اور جو شخص بالمعنی المذکور قادر نہ ہو اُس پر امرونہی کرنا امور واجبہ میں بھی واجب نہیں البتہ اگر ہمت کرے تو ثواب ملیگا پھر امرونہی میں قادر کے لئے امور واجبہ میں تفصیل ہے کہ اگر قدرت ہاتھ سے ہوتو ہاتھ سے اُس کا انتظام واجب ہے جیسے حکام محکومین کے اعتبار سے یا ہر شخص خاص اپنے اہل وعیال کے اعتبار سے اور اگر زبان سے قدرت ہوتو زبان سے  کہنا واجب ہے اور غیر قادر کے لئے صرف اتنا کافی ہے کہ تارک واجبات ومرتکب محرمات سے دل سے نفرت رکھے پھر قادر کے لئے منجملہ شرائط کے ایک ضروری شرط یہ ہے کہ اُس امر کے متعلق شریعت کا پورا حکم اُس کا معلوم ہو اور منجملہ آداب کے ایک ضروری ادب یہ ہے کہ مستحابت میں مطلقا نرمی کرے اور واجبات میں اولا نرمی اور نہ ماننے پر سختی کرے۔ اور ایک تفصیل قدرت میں یہ ہے کہ دستی قدرت میں تو کبھی اس امرونہی کا ترک جائز نہیں اور زبانی قدرت میں مایوسی نفع کے وقت ترک جائز ہے لیکن مؤدت ومخالطت کا بھی ترک واجب ہے مگر بضورتِ شدیدہ۔

Thursday, August 25, 2016

تذکرہ: حضرت مولانا سید محمد قلندر محدث جلال آبادی

حضرت مولانا سید محمد قلندر محدث جلال آبادی[1]
مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی

            ایک زمانہ تھا کہ نجیب آباد (جو آ کل ضلع بجنور یوپی کا ایک قصبہ ہے) مجمع علوم اور مرکزِ علماء تھا، نواب نجیب الدولہ کی علم پروری اور قدردانی کی وجہ سے دور دراز سے علماء اور شریف خاندانوں نے نجیب آباد کا رخ کیا۔ اور انہیں معزز خانوادوں میں ایک گھرانا سادات کا بھی تھا جو نجیب   الدولہ کی وفات اور ضابطہ خاں کے غوث گڑھ کو مستقر بنالینے کے بعد غوث گڑھ منتقل ہوا، غوث گڑھ کی تباہی کے بعد یہ خاندان جلال آباد پہنچا اور وہیں کا ہو رہا۔ اسی خاندان کے ایک فرد فرید حضرت مولانا محمد قلندر محدث جلال آبادی ہیں۔