Click here to read/download PDF
اسلام میں بیت المقدس کی اہمیت اور اس کی تاریخ پر ایک سوال کے جواب میں مختصر تحریر

بسم اللہ الرحمن الرحیم
پس منظر:
مسجد اقصی یا بیت المقدس شہر
یروشلم میں واقع ہے اور یروشلم ارض مقدس کا حصہ ہے۔ قدیم
زمانہ میں اس علاقہ کو کنعان پھر فلسطین کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔ یہ
خطۂ ارض موجودہ دور میں اسرائیل ، فلسطین، کچھ حصہ اُردن، لُبنان اور ملک شام (سوریا) پر محیط ہے۔
مسجد اقصی متعدد انبیاء کرام ؑ
کا مسکن اور مرکز رہا ہے، یہیں سے توحید کی دعوت دور دراز علاقوں تک پھیلی اس
علاقہ کو اللہ تعالی نے برکت والا علاقہ قرار دیا ہے اسی لئے اس کی مذہبی اہمیت و مرکزیت کے قائل یہودی، عیسائی اور مسلمان
ہمیشہ سے رہے ہیں کیونکہ حضرت ابراہیمؑ اور انکے بعد آنے والے کئی ایک پیغمبر جو
اس خطہ میں مبعوث ہوئے ان کا تعلق ان تینوں قوموں سے ہے۔
عیسائوں کے یہاں ایک خاص وجہ
اہمیت کی یہ بھی ہے کہ انکے عقیدے کے مطابق عیسیٰ ؑ کو یروشلم ہی میں سولی پر
چڑھایا گیا اور دفن کیا گیا تھا چنانچہ مسجد اقصی سے کچھ فاصلہ پر انکا سب سے اہم چرچ
موجود ہے جس کے نیچے وہ عیسیؑ کی قبر بتاتے ہیں اور عیسیؑ کا مقام پیدائش بیت لحم
یروشلم سے قریب ہی واقع ہے۔
اسلامی حیثیت:
نبی ﷺ سے متعدد حدیثوں میں
مسجد اقصی کی فضیلت ثابت ہے چنانچہ حضور ﷺ نے فرمایا: تین مسجدوں کے سوا کسی کے
لئے رخت سفر نہ باندھے جائیں؛ مسجد الحرام، مسجد الاقصی اور میری مسجد (مسجد نبوی)
[بخاری: ۱۱۹۷] اور ایک حدیث میں آپ ﷺ نے مسجد اقصی میں نماز پڑھنے کو
پچاس ہزار نماز کے برابر فرمایا۔ [ابن
ماجہ: ۱۴۱۳] حضرت ابوذرؓ نے
نبی ﷺ سے معلوم کیا کہ: سب سے پہلے روئے زمین پر کون سی مسجد بنی؟ آپ ﷺ نے جواب
دیا کہ مسجد الحرام پھر سوال کیا کہ اور اس کے بعد؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مسجد
الاقصی (بیت المقدس) [بخاری:
۳۳۶۶] نبی ﷺ نے مسجد
اقصی کی جانب رخ کر کے کچھ سولہ مہینہ نماز پڑھی ہے پھر بحکم الہی بیت
اللہ کو قبلہ قرار دیا گیا۔ نیز معراج کی رات اسی مقام پر حضور ﷺ نے عجائبات قدرت
کا مشاہدہ کیا اور پھر یہیں سے آپ ﷺ کو معراج ہوئی۔
مذکورہ بالا روایات سے اسلام میں بیت المقدس کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے لئے منجملہ تین مقامات مقدسہ میں سے ایک ہے۔

