Featured Post

بداية المتعلم: کلمے، دعائیں، وضو، غسل اور نماز

  Click here to read/download (PDF) بسم الله الرحمن الرحيم اسلام کے کلمے کلمۂ طیبہ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُو ْ لُ ال...

Thursday, August 25, 2016

تذکرہ: حضرت مولانا سید محمد قلندر محدث جلال آبادی

حضرت مولانا سید محمد قلندر محدث جلال آبادی[1]
مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی

            ایک زمانہ تھا کہ نجیب آباد (جو آ کل ضلع بجنور یوپی کا ایک قصبہ ہے) مجمع علوم اور مرکزِ علماء تھا، نواب نجیب الدولہ کی علم پروری اور قدردانی کی وجہ سے دور دراز سے علماء اور شریف خاندانوں نے نجیب آباد کا رخ کیا۔ اور انہیں معزز خانوادوں میں ایک گھرانا سادات کا بھی تھا جو نجیب   الدولہ کی وفات اور ضابطہ خاں کے غوث گڑھ کو مستقر بنالینے کے بعد غوث گڑھ منتقل ہوا، غوث گڑھ کی تباہی کے بعد یہ خاندان جلال آباد پہنچا اور وہیں کا ہو رہا۔ اسی خاندان کے ایک فرد فرید حضرت مولانا محمد قلندر محدث جلال آبادی ہیں۔


                مولانا محمد قلندر کی ولادت وطفولیت کی نسبت معلومات دستیاب نہیں۔ تعلیم شروع سے آخر تک خاتم مثنوی مولانا روم، حضرت مفتی الہی بخش کاندھلوی سے حاصل کی۔ تمام علوم میں اپنے استاذ کا عکس اور مثنی تھے۔

            مولانا محمد قلندر کے یہاں بھی  ہر وقت درس وتدریس کا سلسلہ رہتا تھا، خصوصا مولانا کا سلسلۂ درسِ حدیث اس دور کا ممتاز ترین حلقۂ درس تھا، جس میں دور دراز علاقوں کے طلباء بھی شریک رہتے تھے۔ مولانا محمد قلندر علم وفضل، سلوک ومعرفت اور اصلاح وتذکیر میں یکساں بلند پایہ رکھتے تھے اور کشف وکرامات میں شہرۂ آفاق تھے۔

                مولانا محمد قلندر کا ایک خاص وصف جناب رسول اللہ ﷺ سے نسبتِ حضوری ہے، مولانا محمد قلندر ہر روز شب میں اور بیداری  میں بھی جناب رسول اللہ ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوتے تھے۔ مولانا محمد قلندر کی علمی وروحانی صلاحیتوں اور دربارِ رسالت مآب ﷺ میں شرفِ حضوری کی وجہ سے اس دور کے علماء ومشائخ کی نظر میں خاص احترام اور بے حد وقعت تھی۔
                مؤلف تذکرۂ رحمانیہ لکھتے ہیں:
                ’’یہ بزرگ بڑے پایہ کے عالم تھے۔ حضور رسول مقبول ﷺ کے ساتھ ان کو نسبتِ حضوری حاصل تھی۔ خواب میں زیارت سے مشرف ہوتے تھے۔ اپنے علاقہ میں نہایت صاحب کشف وکرامات مانے جاتے تھے، علم وفضل کے ساتھ تقوی، نیکی اور پرہیز گاری میں اپنی نظیر نہ رکھتے تھے۔‘‘[2]

                مولانا محمد قلندر نے طویل علالت کے بعد ۱۲۶۰ھ میں وفات پائی۔ مولانا ابو الحسن حسن کاندھلوی نے بطریق تخرجہ تاریخ کہی:
جو سید قلندر محمد مرا
تو دل غم سے ٹکڑے مرا ہو گیا
وہ تھا سیدِ پاک مقبول حق
ہوا ا س کے غم میں ہر اک مبتلا
حسن جب گیا فکر تاریخ میں
تو ہاتف نے بس اس سے اتنا کہا
’’فقد فاز فوزا  عظیما‘‘ حسن
یہ تاریخ ہے اس کی نص خدا
بشرطیکہ اعداد الفاظ نزع
کرے لفظ آیت سے لکھ کر جدا[3]

                آخر میں مولانا سید محمد قلندر کے ان تلامذہ کا ذکر کیا جاتا ہے جن کی علمی و عرفانی خدمات کے گہرے نقوش ہماری ملی تاریخ میں اس طرح مرتسم ہیں کہ ان کا ذکر کئے بغیر ہندوستان میں مسلمانوں کی علمی، مذہبی اور روحانی تاریخ کا ہر جائزہ ناتمام و نامکمل رہے گا۔ یہ نامور تلامذہ ہیں، استاذ العلماء مولانا مملوک العلی نانوتوی، مولانا قاری عبد الرحمن پانی پتی، حضرت حاجی امداد اللہ تھانوی مہاجر مکی، مولانا شیخ محمد محدث تھانوی اور مولانا غوث علی شاہ قلندر پانی پتی۔

                مولانا مملوک العلی نے مولانا محمد قلندر سے کیا تعلیم حاصل کی اس کی کوئی تفصیل نہیں ملتی، مولانا  عاشق الہٰی میرٹھی کی اکی عبارت سے مجمل اطلاع ملتی ہے، مولانا لکھتے ہیں:
                نیز سنا ہے کہ آپ (مولانا مملوک العلی) نے معقول کا کچھ حصہ مولوی قلندر بخش سے بھی پڑھا ہے۔[4]

                راقم سطور کو مولانا احمد اللہ کیرانوی کی روایت پہنچی ہے، وہ اپنے استاذ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی سے نقل کرتے ہیں کہ مولانا مملوک العلی نے حدیث کی چند کتابیں مولانا محمد قلندر سے پڑھی تھیں۔

                مولانا قاری عبد الرحم محدث پانی پتی نے چند اعلیٰ درسی کتابیں اور صحیح بخاری کا ایک تہائی حصہ مولانا محمد قلندر سے پڑھا تھا۔ مؤلف تذکرۂ رحمانیہ لکھتے ہیں:
                صاحب سوانح (مولانا قاری عبد الرحمن) کو تحصیل علوم کا شوق آپکے پاس لے گیا۔ حضرت ممدوح سے آپ نے ثلث صحیح بخاری اور بعض دیگر کتب دینیات پڑھیں۔[5]

                حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ نے مشکوۃ کا چوتھائی حصہ مولانا محمد قلندر سے پڑھا، حضرت حاجی صاحب نے ایک مجلس میں اس تلمذ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فر مایا تھا:
                بعد ازاں بالہام غیبی وبجذبۂ لذت کلام نبوی مشکوۃ شریف کا ایک ربع قراءۃ عاشق زار رسولِ انور حضرت مولانا محمد قلندر محدث جلال آبادی پر گزرانا۔ [6]

                حضرت میانجیو نور محمد صاحب کی خدمت میں حضرت حاجی امداد اللہ کے حضرت ہونے اور حضرت میانجیو صاحب سے پہلی ملاقات کا ذریعہ بھی مولانا محمد قلندر صاحؓ ہی تھے، حضرت حاجی صاحب نے میانجیو نور محمد صاحب کی خدمت میں پہلی حاضری [7]  کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
                ’’ایک دن حضرت استاذی مولانا محمد قلندر محدث جلال آبادی رحمہ اللہ تعالیٰ نے میرے اضطرار کو دیکھ کر بکمال شفقت وعنایت فرمایا کہ تم کیوں پریشان ہوتے ہو، موضع لوہاری یہاں سے قریب ہے وہاں جاؤ اور حضرت میانجیو صاحب سے ملاقات کرو شاید مقصودِ دلی کو پہنچو اور اس حیث وبحث سے نجات پاؤ۔ جناب ایشان فرماتے ہیں کہ جس وقت حضرت مولانا سے میں نے یہ سنا متفکر ہو اور دل میں سوچنے لگا کہ کیا کروں، آخر بلا لحاظ سواری وغیرہ میں نے فورا راہ لوہاری کی لی‘‘۔[8]

                مولانا شیخ محمد تھانوی موصوف نے معقولات کی کتابیں مولانا محمد قلندر سے پڑھیں تھیں، مولانا شیخ محمد تحریر فرماتے ہیں:
                ’’اما در فن معقول ہم ازیں خاندان عالیشان بذریعہ مولانا الحاج المدرس مولوی مملوک العلی نانوتوی مرحوم ومولانا الحاج محمد قلند جلال آبادی مغفور‘‘[9]

                مولانا محمد عمر چرتھاؤلی کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا شیخ محمد نے نحو وصرف کی تمام کتابیں مولانا عبد الرحیم تھانوی اور مولانا محمد قلندر سے پڑھیں تھیں۔[10]

                مولانا غوث علی شاہ قلندر پانی پتی نے مثنوی مولانا روم کا دفتر اول مکمل اور دوسرے دفتر کا کچھ حصہ مولانا محمد قلندر سے پڑھا، اسکا مولانا غوث قلندر نے خود ذکر کیا ہے۔[11]



[1]  ماخوذ از  ’’استاذ الکل حضرت مولانا مملوک العلی نانوتویؒ‘‘ از مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی ص۱۱۳، ط: حضرت مفتی الہی بخش اکیڈمی، کاندھلہ، مظفرنگر
[2]  تذکرہ رحمانیہ۔ تالیف مولانا عبد الحلیم انصاری، ص ۳۵  (پانی پتی ۱۳۵۷ھ)
[3]  ابیاض مولانا ابو الحسن ورق ۹ ا ب فقد فاز فوزا عظیما کے کل عدد ۱۳۸۷ ہوتے ہیں اگر لفظ نزع کے اعداد ۱۲۷، اس میں سے نکال دے جائیں تو کل ۱۲۶۰ باقی رہ جاتے ہیں اور یہی مولانا قلندر کا سنہ وفات ہے۔
[4]  تذکرۃ الرشید مولانا عاشق الہی میرٹھی ص۲۷ ج۱ (طبع اول میرٹھ)
[5]  تذکرہ رحمانیہ ص۳۶
[6]  شمائم امداد المشتاق ص۱۰
[7]  راقم سطور کا خیال ہے کہ حضرت میانجیو نور محمد صاحب کی خدمت میں حضرت حاجی صاحب کی پہلی حاضری غالبا ۱۲۵۸ھ کے آخر میں ہوئی، اس کا قرینہ یہ ہے کہ ۱۲۵۶ ھ تک حضرت حاجی صاحب کے پہلے شیخ حضرت مولانا نصیر الدین نقشبندی حیات تھے انکی زندگی میں کسی دوسرے شیخ سے رجوع ہونے کا سوال ہی نہیں تھا۔ کئی سال حضرت میانجیو صاحب کی تلاش وجستجو میں رہے (شمائم امدادیہ ص۱۴) اور رمضان ۱۲۵۹ھ میں حضرت میانجیو صاحب کا وصال ہو جاتا ہے، میانجیو کا وصال کے وقت یہ فرمانا کہ ’’میرا ارادہ تھا کہ تم سے مجاہدہ وریاضت لونگا مشیت باری سے چارہ نہیں ہے عمر نے وفا نہ کی‘‘ شمائم ص۱۶۰ اس خیال کی تائید کرتا ہے کہ حضرت حاجی صاحب میانجیو صاحب کی خدمت میں چند ماہ رہے۔
[8]  شمائم امدادیہ ص۱۱، امداد المشتاق ص۱۰
[9]  دلائل الاذکار فی اثبات الجہر والاسرار ص۳۷ (دہلی ۱۲۷۰ھ)
[10]  نثر حالات محمدیہ ص ۵، عثمانی میرٹھ ۱۲۹۷ھ
[11]  تذکرہ غوثیہ منسوب بہ مولانا گل حسن ص۴۳

No comments:

Post a Comment