Featured Post

بداية المتعلم: کلمے، دعائیں، وضو، غسل اور نماز

  Click here to read/download (PDF) بسم الله الرحمن الرحيم اسلام کے کلمے کلمۂ طیبہ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُو ْ لُ ال...

Showing posts with label Seerah. Show all posts
Showing posts with label Seerah. Show all posts

Friday, September 29, 2023

رسول کریم ﷺ

نبی ﷺ کی ذات گرامی اور سیرت طیبہ سے متعلق اکابر علمائے کرام کی تحریرات سے منتخب مختصر مضامین 

Click here to read/Download(PDF)

سیرت سید وُلدِ آدم نبی کریم حضرت محمد ﷺ

ولادتِ مبارکہ

آپ ؐ شہر مکہ میں سردارِ قریش حضرت عبد المطلب کے گھر میں پیدا ہوئے، آپ ؐ کے والد ماجد کا نام نامی عبد اللہ اور والدۂ محترمہ کا اسم گرامی آمنہ تھا۔ آپ کی ولادت سراپا بشارت ربیع الاول کے مہینہ میں دو شنبہ کے دن صبح صادق کے وقت آٹھویں یا بارھویں تاریخ کو ہوئی، انگریزی تاریخ ۲۰؍ اپریل ۵۷۱ء بیان کی گئی ہے، اس وقت ایران میں نوشیروانِ عادل کی حکومت تھی۔

  عجائبات کا ظہور

آپ ؐ کی ولادتِ بابرکت کے وقت بہت سے عجائبات قدرت کا ایسا ظہور ہوا کہ کبھی دنیا میں وہ باتیں نہیں ہوئیں، بے زبان جانوروں   نے انسانی زبان میں آپ ؐ کے تشریف لانے کی خوشخبری سنائی، درختوں سے آوازیں آئیں، بُت پرستوں نے بتوں سے آپ کی آمد کی خوش خبری سنی، دنیا کے دو بڑے بادشاہوں یعنی شاہ فارس اور شاہ روم کو بذریعہ خواب آپ ؐ کی عظمت ورفعت سے آگاہی دی گئی اور یہ بھی ان کو بتایا گیا کہ آپ ؐ کی سطوت وجبروت کے سامنے نہ صرف کسریٰ اور قیصر بلکہ ساری دنیا کی شوکتیں سرنگوں ہو جائیں گی۔ آپ ؐ شکم مادر ہی میں تھے کہ آپ ؐ کے والد ماجد کا انتقال ہو گیا اور چار برس کی عمر میں مادرِ مہربان کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا۔ کسی سے آپ ؐ نے پڑھنا لکھنا کچھ نہیں سیکھا، نہ کسی سے کوئی چیز یا کوئی کمال حاصل کیا حتی کہ شعر و سخن جس کا عرب میں بہت رواج تھا اس کی بھی مشق آپ نے کسی سے نہیں کی۔

نگارِ من کہ بہ مکتب نہ رفت وخط نہ نوشت       بہ غمزہ مسألہ آموز صد مدرّس شد

Friday, November 16, 2018

سیرت سید وُلدِ آدم نبی کریم ﷺ ۔ مولانا عبد الشکور فاروقی لکھنویؒ






بسم اللہ الرحمن الرحیم

سیرت سید وُلدِ آدم نبی کریم ﷺ
ولادتِ مبارکہ
آپ ؐ شہر مکہ میں سردارِ قریش حضرت عبد المطلب کے گھر میں پیدا ہوئے، آپ ؐ کے والد ماجد کا نام نامی عبد اللہ اور والدۂ محترمہ کا اسم گرامی آمنہ تھا۔ آپ کی ولادت سراپا بشارت ربیع الاول کے مہینہ میں دو شنبہ کے دن صبح صادق کے وقت آٹھویں یا بارھویں تاریخ کو ہوئی، انگریزی تاریخ ٢٠؍ اپریل ۵۷۱ء بیان کی گئی ہے، اس وقت ایران میں نوشیروانِ عادل کی حکومت تھی۔
  عجائبات کا ظہور
آپ ؐ کی ولادتِ بابرکت کے وقت بہت سے عجائبات قدرت کا ایسا ظہور ہوا کہ کبھی دنیا میں وہ باتیں نہیں ہوئیں، بے زبان جانوروں   نے انسانی زبان میں آپ ؐ کے تشریف لانے کی خوشخبری سنائی، درختوں سے آوازیں آئیں، بُت پرستوں نے بتوں سے آپ کی آمد کی خوش خبری سنی، دنیا کے دو بڑے بادشاہوں یعنی شاہ فارس اور شاہ روم کو بذریعہ خواب آپ ؐ کی عظمت ورفعت سے آگاہی دی گئی اور یہ بھی ان کو بتایا گیا کہ آپ ؐ کی سطوت وجبروت کے سامنے نہ صرف کسریٰ اور قیصر بلکہ ساری دنیا کی شوکتیں سرنگوں ہو جائیں گی۔ آپ ؐ شکم مادر ہی میں تھے کہ آپ ؐ کے والد ماجد کا انتقال ہو گیا اور چار برس کی عمر میں مادرِ مہربان کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا۔ کسی سے آپ ؐ نے پڑھنا لکھنا کچھ نہیں سیکھا، نہ کسی سے کوئی چیز یا کوئی کمال حاصل کیا حتی کہ شعر و سخن جس کا عرب میں بہت رواج تھا اس کی بھی مشق آپ نے کسی سے نہیں کی۔
نگارِ من کہ بہ مکتب نہ رفت وخط نہ نوشت       بہ غمزہ مسألہ آموز صد مدرّس شد

Wednesday, December 20, 2017

Lineage of the Prophet Muhammad (S.A.W) [Hindi]

वंशावली नबी पाक मुहम्मद (सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम)

Muhammad (Sallallahu ‘Alaihi Wasallam) - मुहम्मद (सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम) (571 – 632)
‘Abdullah - अब्दुल्लाह
‘Abdul Muttalib - अब्दुल मुत्तलिब
Hashim - हाशिम
‘Abd Manaaf - अब्द मनाफ़
Qusai - कुसई
Kilaab - किलाब
Murrah - मुररह
Ka’b – काब
Luai - लुअई
Ghalib - ग़ालिब
Fihar - फिहर (Quraysh - कुरैश)
Malik - मालिक
Nadhar  - नजर
Kinanah - किनानह
Khuzaimah - खुजैमा
Mudrikah - मुदरिका
Ilyaas - इल्यास
Mudhar - मुजर
Nizaar - निज़ार
Ma’ad - मअद
‘Adnan – अदनान


Sunday, May 1, 2016

اسراء اور معراج

جناب مولانا صفی الرحمن صاحب مبارکپوری مرحوم کی سیرت کے موضوع پر مشہور کتاب ’الرحیق المختوم‘ سے واقعۂ معراج کی تفصیل اور توضیح۔ 

Wednesday, May 23, 2012

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام اور اس کا مقام

"الہلال" کے ایک مضمون میں حضرت مولانا ابو الکلام آزاد مرحوم نے ضمنا لکھ دیا تھا "محمد بن عبد اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی عمر کے تریسٹھ برس چار مہینے کے بعد آغوش الہی میں زندہ رہا" ۔۔۔ اس پر اعتراض ہوا اور مولانا نے معترض کا خط چھاپ کر معافی مانگ لی۔ ایک اور صاحب نے یہ سوال اٹھایا کہ عیسائی حضرت مسیحؑ کو بے تامل "مسیح" لکھتے اور بولتے ہیں اور بعض مواقع پر اختصار کا تقاضا یہی ہوتا ہے۔ کیا کوئی مذہبی حکم اس بارے میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نام کے ساتھ تعظیمی الفاظ ضرور بولے جائیں؟ اس کے جواب میں فرماتے ہیں:

Thursday, April 26, 2012

حلیۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارکہ از حضرت مفتی شفیع صاحب دیوبندی رحمہ اللہ