Featured Post

بداية المتعلم: کلمے، دعائیں، وضو، غسل اور نماز

  Click here to read/download (PDF) بسم الله الرحمن الرحيم اسلام کے کلمے کلمۂ طیبہ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُو ْ لُ ال...

Thursday, August 25, 2016

تذکرہ: حضرت مولانا سید محمد قلندر محدث جلال آبادی

حضرت مولانا سید محمد قلندر محدث جلال آبادی[1]
مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی

            ایک زمانہ تھا کہ نجیب آباد (جو آ کل ضلع بجنور یوپی کا ایک قصبہ ہے) مجمع علوم اور مرکزِ علماء تھا، نواب نجیب الدولہ کی علم پروری اور قدردانی کی وجہ سے دور دراز سے علماء اور شریف خاندانوں نے نجیب آباد کا رخ کیا۔ اور انہیں معزز خانوادوں میں ایک گھرانا سادات کا بھی تھا جو نجیب   الدولہ کی وفات اور ضابطہ خاں کے غوث گڑھ کو مستقر بنالینے کے بعد غوث گڑھ منتقل ہوا، غوث گڑھ کی تباہی کے بعد یہ خاندان جلال آباد پہنچا اور وہیں کا ہو رہا۔ اسی خاندان کے ایک فرد فرید حضرت مولانا محمد قلندر محدث جلال آبادی ہیں۔

Tuesday, August 23, 2016

تذکرہ: حضرت مولانا سید احمد حسن محدث امروہی رحمہ اللہ

سیدالعلماء مولانا سیداحمدحسن حسینی محدث امروہی قدس سرہ

تحریروترتیب: مولانا مدثر جمال تونسوی
امروہہ کے مشہور خاندان سادات رضویہ سے تعلق تھا، ان کے اجداد میں حضرت شاہ ابّن اکبری دور کے بلندپایہ مشائخ سادات میں سے تھے۔پروفیسر وقار احمد رضوی نے اپنی تصنیف ’’مولانا سید احمد حسن محدث امروہی احوال و آثار‘‘ میں آپ کا مکمل شجرہ نسب درج کیا ہے۔ آپ 1267ھ مطابق 1850ء میں پیداہوئے۔فارسی اور عربی کی ابتدائی تعلیم امروہہ کے بلند پایہ عالم دین مولانا سیدرافت علی ، مولاناکریم بخش نخشبی ابن مولانا امام بخش نخشبی خلیفہ خواجہ غلام علی نقشبندی دہلوی اور مولانامحمدحسین جعفری سے حاصل کی۔ بعدازاں حضرت مولانامحمدقاسم نانوتوی قدس سرہ کی خدمت میں رہ کرعلم حدیث اور دوسرے علوم وفنون کی تکمیل کرکے 1294ھ میں فراغت پائی۔آپ حضرت نانوتوی کے ارشد اور عزیزترین شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں۔سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ حضرت نانوتوی کے تمام شاگردوں میں حضرت امروہی ان سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے، خود حضرت نانوتوی بھی ان کو بہت عزیز رکھتے تھے اور انہیں میر صاحب کہہ کر خطاب کرتے تھے۔

Tuesday, July 19, 2016

Saudi Aramco World : Thomas Jefferson's Qur'an

The Jefferson Building, the main building of the Library of Congress, the world's largest library, is named after Thomas Jefferson, one of the "founding fathers" of the United States, principal author of the 1776 Declaration of Independence and, from 1801 to 1809, the third president of the young republic. But the name also recognizes Jefferson's role as a founder of the Library itself. Among the nearly 6500 books Jefferson sold to the Library was a two-volume English translation of the Qur'an, the book Muslims recite, study and revere as the revealed word of God. The presence of this Qur'an, first in Jefferson's private library and later in the Library of Congress, prompts the questions why Jefferson purchased this book, what use he made of it, and why he included it in his young nation's repository of knowledge.

Monday, July 4, 2016

قنوت نازله

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قُنوت نازلہ

اَللَّهُمَّ اهْدِنَا فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنَا فِيمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنَا فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لَنَا فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَيْتَ فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَىٰ عَلَيْكَ إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَن وَّالَيْتَ وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ نَسْتَغْفِرُكَ وَنَتُوْبُ إِلَيْكَ وَصَلَّى اللهُ عَلَى النَّبِيِّ الْكَرِيْمِ اَللَّهُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِيْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوْبِهِم وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِهِمْ وَانْصُرْهُمْ عَلَىٰ عَدُوِّكَ وَعَدُوِّهِمْ اَللَّهُمَّ قَاتِلِ الْكَفَرَةَ الَّذِيْنَ يَجْحَدُوْنَ آيَاتِكَ وَيُكَذِّبُوْنَ رُسُلَكَ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِكَ وَيُقَاتِلُوْنَ أَوْلِيَاءَكَ اَللَّهُمَّ انْصُرِ الإِسْلامَ وَالْمُسْلِمِيْنَ وَاخْذُلْ أَعَدَائَهُمُ الْيَهُوْدَ وَالنَّصَارَىٰ وَالْمُشْرِكِيْنَ اَللَّهُمَّ شَتِّتْ شَمْلَهُمْ وَمَزِّقْ جَمْعَهُمْ وَخَالِفْ بَيْنَ كَلِمَتِهِمْ وَامْحُ آثَارَهُمْ وَاقْطَعْ دَابِرَهُمْ وَأَنْزِلْ بِهِمْ بَأْسَكَ الَّذِي لا تَرُدُّهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ اَللَّهُمَّ أَهْلِكْهُمْ كَمَا أَهْلَكْتَ عَادًا وَّثَمُوْدًا اَللَّهُمَّ خُذْهُمْ أَخْذَ عَزِيْزٍ مُّقْتَدِرٍ.

الأذكار: سيد الاستغفار، صلاة الحاجت، صلاة التسبيح

بسم الله الرحمن الرحيم


سید الاستغفار: اَللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِيْ وَأَنَا عَبْدُكَ وَأَنَا عَلٰى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ أَبُوْءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ ،وَأَبُوْءُ لَكَ بِذَنۢبِيْ فَاغْفِرْ لِيْ فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلَّا أَنْتَ .

آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص ان کلمات کو دن میں ان کے معنی پر یقین رکھ کر پڑھے اور پھر اسی دن شام سے پہلے مرجائے تو وہ جنتیوں میں سے ہے اور جو شخص ان کلمات کو رات میں ان کے معنی پر یقین رکھ کر پڑھے اور اسی رات صبح ہونے سے پہلے مرجائے تو وہ جنتیوں میں سے ہے۔ (بخاری شریف: ۶۳۰۶)

Friday, June 3, 2016

حضرت مولانا قاری ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ

مورخہ 23 شعبان المعظم 1437ھ م 31 مئی 2016 ء کو امام وخطیب نور مسجد ڈونگری ممبئی کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا قاری ولی اللہ صاحب رحمت اللہ علیہ کا انتقال ہو گیا۔ آپ انتہائی متقی پرہیزگار سادہ مزاج اور شہر بمبئی کے مستند عالم دین شمار کئے جاتے تہے۔ حضرتِ والا حضرت مولانا شاہ وصی اللہ صاحب الٰہ آبادی رحمہ اللہ کے رشتہ میں بہتیجے لگتے تہے اور موجودہ زمانہ میں آپکا شمار سلسلہ تھانوی کی اہم شخصیات میں ہوتا تہا اور آپ شہر بھر میں سلسلہ تھانوی کے سرخیل مانے جاتے تھے۔ آپ حضرت مولانا عبد الحلیم صاحب جونپوری رحمہ اللہ کے خلیفہ مجاز اور غالبا حضرت مولانا قاری صدیق صاحب باندہوی رحمہ اللہ کے بہی خلیفہ تہے۔ آپکو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئےحضرت مفتی عزیز الرحمٰن صاحب فتحپوری دامت برکاتھم کی تحریر جو انقلاب ممبئی - 26 شعبان المعظم 1437ھ م 3 جون 2016ء میں شائع ہوئی۔

Sunday, May 1, 2016

اسراء اور معراج

جناب مولانا صفی الرحمن صاحب مبارکپوری مرحوم کی سیرت کے موضوع پر مشہور کتاب ’الرحیق المختوم‘ سے واقعۂ معراج کی تفصیل اور توضیح۔