- From Mu’adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him), from the Prophet ﷺ, he said: “Allah bestows His special attention to His entire creation on the 15th night of Sha‘ban. He then forgives His entire creation except a polytheist and one who harbours enmity.”
- Imam Ahmad narrated from ‘Abdullah ibn ‘Amr (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Allah, Glorified and Exalted is He, bestows His special attention to His entire creation on the 15th night of Sha‘ban. He then forgives His creation except two: one who harbours enmity and the murderer.”
- From Makhul, from Kaseer ibn Murrah, from the Prophet ﷺ, he said: “In the 15th night of Sha‘ban, Allah forgives the people of the earth except the polytheist or the one who harbours ill thoughts.”
Featured Post
بداية المتعلم: کلمے، دعائیں، وضو، غسل اور نماز
Click here to read/download (PDF) بسم الله الرحمن الرحيم اسلام کے کلمے کلمۂ طیبہ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُو ْ لُ ال...
Wednesday, May 10, 2017
Virtues of the 15th Night of Sha’ban
Sunday, February 26, 2017
کلام جناب کامل الٰہ آبادی صاحب
مورخہ ۱۳؍ جنوری ۲۰۱۷ء کو مسجد نور، ڈونگری، ممبئی میں جناب کامل الٰہ آبادی چائلی صاحب دامت برکاتھم کی تشریف آوری کے موقعہ پر جناب موصوف نے اپنے چند اشعار حاضرین مجلس کے سامنے پیش کئے۔
Monday, December 12, 2016
عظمت ونسبت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
عظمت ونسبت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان پر حضرت مولانا سلمان صاحب بجنوری دامت برکاتھم (استاذ دار العلوم دیوبند) کا نہایت جامع بیان در اجلاس تحفظ سنت وعظمت صحابہ منعقد کردہ انجمن اھل سنت والجماعت ممبئی بتاریخ ۱۱ ربیع الاول ۱۴۳۸ھ م ۱۱ دسمبر ۲۰۱۶ء
Click here to download / تحمیل
(38.2MB)
(38.2MB)
مناجات، ذکر، نعت
مورخہ ۱۱ ربیع الاول ۱۴۳۸ھ م ۱۱ دسمبر ۲۰۱۶ء انجمن اھل سنت و الجماعت ممبئی کے زیر اہتمام تحفظ سنت وعظمت صحابہ کانفرنس میں حضرت مولانا قاری احسان محسن صاحب دامت برکاتھم کے ذریعہ پیش کردہ کلام : مناجات باری تعالی ۔ ذکر اللہ ۔ نعت: سرور دیں ۔ میرا نبی
Tuesday, November 1, 2016
امر بالمعروف ونہی عن المنکر
وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى
الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ
وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
(آل عمران: ١۰٤)
اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونا
ضرور ہے کہ (اور لوگوں کو بھی) خیر کی طرف بُلایا کریں اور نیک کاموں کے کرنے کو
کہا کریں اور بُرے کاموں سے روکا کریں اور ایسے لوگ (آخرت میں ثواب سے) پورے
کامیاب ہونگے۔
ف: تفصیل اس مسئلہ کی یہ ہے کہ جو
شخص امر بالمعروف ونہی عن المنکر پر قادر ہو یعنی قرائن سے غالب گمان رکھتا ہے کہ اگر
میں امرونہی کرونگا تو مجھ کو کوئی ضرر معتد بہ لاحق نہ ہوگا اُس کے لئے امور
واجبہ میں امرونہی کرنا واجب ہے اور امور مستحبہ میں مستحب مثلا نماز پنجگانہ فرض
ہے تو ایسے شخص پر واجب ہوگا کہ بے نماز کو نصیحت کرے اور نوافل مستحب ہیں اُس کی
نصیحت کرنا مستحب ہوگا اور جو شخص بالمعنی المذکور قادر نہ ہو اُس پر امرونہی کرنا
امور واجبہ میں بھی واجب نہیں البتہ اگر ہمت کرے تو ثواب ملیگا پھر امرونہی میں
قادر کے لئے امور واجبہ میں تفصیل ہے کہ اگر قدرت ہاتھ سے ہوتو ہاتھ سے اُس کا
انتظام واجب ہے جیسے حکام محکومین کے اعتبار سے یا ہر شخص خاص اپنے اہل وعیال کے
اعتبار سے اور اگر زبان سے قدرت ہوتو زبان سے کہنا واجب ہے اور غیر قادر کے لئے صرف اتنا کافی
ہے کہ تارک واجبات ومرتکب محرمات سے دل سے نفرت رکھے پھر قادر کے لئے منجملہ شرائط
کے ایک ضروری شرط یہ ہے کہ اُس امر کے متعلق شریعت کا پورا حکم اُس کا معلوم ہو
اور منجملہ آداب کے ایک ضروری ادب یہ ہے کہ مستحابت میں مطلقا نرمی کرے اور
واجبات میں اولا نرمی اور نہ ماننے پر سختی کرے۔ اور ایک تفصیل قدرت میں یہ ہے کہ
دستی قدرت میں تو کبھی اس امرونہی کا ترک جائز نہیں اور زبانی قدرت میں مایوسی نفع
کے وقت ترک جائز ہے لیکن مؤدت ومخالطت کا بھی ترک واجب ہے مگر بضورتِ شدیدہ۔
Thursday, August 25, 2016
تذکرہ: حضرت مولانا سید محمد قلندر محدث جلال آبادی
حضرت مولانا سید
محمد قلندر محدث جلال آبادی[1]
مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی
مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی
ایک زمانہ تھا کہ نجیب آباد (جو آ کل ضلع بجنور یوپی کا
ایک قصبہ ہے) مجمع علوم اور مرکزِ علماء تھا، نواب نجیب الدولہ کی علم پروری اور
قدردانی کی وجہ سے دور دراز سے علماء اور شریف خاندانوں نے نجیب آباد کا رخ کیا۔
اور انہیں معزز خانوادوں میں ایک گھرانا سادات کا بھی تھا جو نجیب الدولہ کی وفات اور ضابطہ خاں کے غوث گڑھ کو
مستقر بنالینے کے بعد غوث گڑھ منتقل ہوا، غوث گڑھ کی تباہی کے بعد یہ خاندان جلال
آباد پہنچا اور وہیں کا ہو رہا۔ اسی خاندان کے ایک فرد فرید حضرت مولانا محمد
قلندر محدث جلال آبادی ہیں۔
Tuesday, August 23, 2016
تذکرہ: حضرت مولانا سید احمد حسن محدث امروہی رحمہ اللہ
سیدالعلماء مولانا سیداحمدحسن حسینی محدث امروہی قدس سرہ
تحریروترتیب: مولانا مدثر جمال تونسوی
امروہہ کے مشہور خاندان سادات رضویہ سے تعلق تھا، ان کے اجداد میں حضرت شاہ ابّن اکبری دور کے بلندپایہ مشائخ سادات میں سے تھے۔پروفیسر وقار احمد رضوی نے اپنی تصنیف ’’مولانا سید احمد حسن محدث امروہی احوال و آثار‘‘ میں آپ کا مکمل شجرہ نسب درج کیا ہے۔ آپ 1267ھ مطابق 1850ء میں پیداہوئے۔فارسی اور عربی کی ابتدائی تعلیم امروہہ کے بلند پایہ عالم دین مولانا سیدرافت علی ، مولاناکریم بخش نخشبی ابن مولانا امام بخش نخشبی خلیفہ خواجہ غلام علی نقشبندی دہلوی اور مولانامحمدحسین جعفری سے حاصل کی۔ بعدازاں حضرت مولانامحمدقاسم نانوتوی قدس سرہ کی خدمت میں رہ کرعلم حدیث اور دوسرے علوم وفنون کی تکمیل کرکے 1294ھ میں فراغت پائی۔آپ حضرت نانوتوی کے ارشد اور عزیزترین شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں۔سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ حضرت نانوتوی کے تمام شاگردوں میں حضرت امروہی ان سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے، خود حضرت نانوتوی بھی ان کو بہت عزیز رکھتے تھے اور انہیں میر صاحب کہہ کر خطاب کرتے تھے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)