Featured Post

بداية المتعلم: کلمے، دعائیں، وضو، غسل اور نماز

  Click here to read/download (PDF) بسم الله الرحمن الرحيم اسلام کے کلمے کلمۂ طیبہ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُو ْ لُ ال...

Friday, June 6, 2025

مختصر مسائل عید الاضحیٰ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مختصر مسائل عید الاضحیٰ

Click here to read/download PDF

ہر ایک مسلمان، مرد و عورت جو مسافر نہ ہو، جس کے پاس قربانی کے دنوں میں قرض وضع کرنے کے بعد بقدر نصاب (87 گرام) سونا یا (612 گرام )چاندی، یا 612 گرام چاندی کی قیمت کا کوئی مال ہو، روپے پیسے یا کوئی اور چیز، جو ضرورت اصلیہ سے زائد اور فارغ ہو۔ اس پر قربانی واجب ہے۔

تکبیر تشریق: ۹؍ ذی الحجہ کی فجر سے تکبیر تشریق ہر اس مسلمان پر واجب ہے جس پر پنج و قتہ نماز فرض ہے خواہ مرد ہو یا عورت مقیم ہو یا مسافر۔ مرد بآواز بلند پڑھیں عورتیں آہستہ۔ یہ تکبیرات ۱۳ ؍ذی الحجہ کی عصر تک پڑھی جائیں صرف ایک بار پڑھنا واجب ہے۔

اَللهُ اَكْبَرُ اَللهُ اَكْبَرُ لآ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاللهُ اَكْبَرُ اَللهُ اَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ

قربانی کا طریقہ:(۱)  دل سے نیت کرے اور (۲) زبان سے بِسْمِ اللهِ اَللهُ اَكْبَرُ کہہ کر جانور کو قبلہ رخ لٹا کر تیز چھری سے ذبح کرے اور یہ دعا پڑھے: اِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّذِى فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ حَنِيْفًا وَّمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ، اِنَّ صَلَاتِى وَنُسُكِى وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِى لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ لَا شَرِيْكَ لَهُ، وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ

اس دعا کے بعد ذبح کرے اور یہ دعا پڑھے:اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْهُ مِنِّى كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِيْبِكَ مُحَمَّدٍ وَّ خَلِيْلِكَ اِبْرَاهِيْمَ عَلَيْهِمَا الصَّلوٰةُ وَالسَّلَامُ

(اگر کسی اور کی طرف سے ذبح کرے تو مِنِّى  کی جگہ مِنْ کہہ کر اسکا نام لیوے)

(۳) ذبح میں یہ خیال رہے کہ حلقوم سانس آنے جانے کی راہ جسے نرخرہ کہتے ہیں کٹ جائے دوسرے مَری یعنی طعام و شُرب کی راہ تیسرے و چوتھے وَدجَین یعنی حلق سے ملی ہوئی دو رگ جو داھنے بائیں ہوتی ہیں کٹ جائیں

(۴) بہتر یہ ہے کہ جس طرح ذبح کرنے والا بسْمِ اللهِ اَللهُ اَكْبَرُکہے اس طرح جانور کو پکڑنے میں مدد کرنے والا بھی کہے لیکن اگر اعانت کرنے والے نے نہ کہا تو بھی ذبیحہ درست ہے۔

Monday, June 2, 2025

غسل فرض ہونے کے اسباب

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

غسل فرض ہونے کے اسباب

Clich here to read/download PDF

غسل چار سبب سے فرض ہوتا ہے :

پہلا سبب: خُروجِ مَنِی، یعنی منی کا اپنی جگہ سے شہوت کے ساتھ جدا ہو کر جسم سے باہر نکلنا، خواہ سوتے میں یا جاگتے میں۔  

·      سفید تری جو بوقت اِنزال شرمگاہ سے نکلتی ہے منی کہلاتی ہے۔

·      شہوت یعنی جوانی کے جوش کے ساتھ یا بغیر جوش کے منی کا نکلنا انزال کہلاتا ہے۔

·      مَذِی نکلنے سے غسل فرض نہیں ہوتا البتہ وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

·      جوانی کے جوش کے وقت اول اول جو پانی   نکلتا ہے اسکو مذی کہتے ہیں۔

·       منی اور مذی میں فرق یہ ہے کہ مذی نکلنے سے جوش کم نہیں ہوتا بلکہ زیادہ ہو جاتا ہے اور مذی پتلی ہوتی ہے جب کہ منی گاڑھی ہوتی ہے اور منی نکلنے سے جوش ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔

 دوسرا سبب: اِیلاج ، یعنی کسی مرد کے خاص حصہ (شرمگاہ)  کا کسی زندہ عورت کے خاص حصہ میں داخل ہونا، خواہ منی گرے یا نہ گرے۔ اس صورت میں دونوں پر غسل فرض ہو جائے گا۔

تیسرا سبب: حیض سے پاک ہونا ۔

·      عورتوں کو ہر مہینہ جو آگے کی راہ سے معمولی خون آتا ہے اس کو حیض کہتے ہیں۔

چوتھا سبب:  نفاس سے پاک ہونا۔

·      عورتوں کو بچہ پیدا ہونے کے بعد آگے کی راہ سے جو خون آتا ہے اس کو نفاس کہتے ہیں۔

(تفصیل کے لئے دیکھئے بہشتی گوہر اور بہشتی زیور)

مرتب:  شمس تبریز؛ ۱۰؍اگست ۲۰۲۰ء(اضافہ: ۱؍جون ۲۰۲۵ء)

Saturday, May 31, 2025

فضائل و اعمال عشرۂ ذی الحجہ

 

بسم اللہ الرحمن الرحيم

فضائل و اعمال عشرۂ ذی الحجہ

Click here to read/download PDF

۱۔  بال اور ناخن نہیں کاٹنے کا حکم

حدیث: ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہو جائے (یعنی ذی الحجہ کا چاند دیکھ لیا جائے) اور تم میں سے کسی کا ارادہ قربانی کا ہو تو اس کو چاہیے کہ (اب قربانی کرنے تک) اپنے بال یا ناخن بالکل نہ تراشے ۔ (صحیح مسلم؛ حدیث نمبر ۱۹۷۷)

مسئلہ: جس کا ارادہ قربانی کرنے کا ہے اس کے لیے مستحب ہے کہ ماہ ذی الحجہ کے آغاز سے جب تک قربانی ذبح نہ کرے جسم کے کسی عضو و جزو سے بال و ناخن صاف نہ کرے کہ قربانی کرنے والا اپنی جان کے فدیہ میں قربانی کر رہا ہے، اور قربانی کے جانور کا ہر جز و قربانی کرنے والے کے جسم کے ہر جزو کا بدلہ ہے، جسم کا کوئی جزو نزولِ رحمت کے وقت غائب ہو کر قربانی کی رحمت سے محروم نہ رہے اس لیے آنحضرت ﷺ نے مذکورہ حکم دیا ہے لیکن چالیس دن سے زائد مدت ہو جاتی ہو تو کراہت سے بچنے کی خاطر بال وغیرہ کی صفائی میں ڈھیل اور سستی نہ کرے۔ (فتاوی رحیمیہ ج ۵، ص ۴۰۷)

Friday, July 12, 2024

فضائل محرم وعاشوراء

 

بسم الله الرحمن الرحيم

فضائل محرم وعاشوراء

Click here to read/download PDF

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على رسوله الكريم وعلى آله وأصحابه أجمعين أما بعد:

محرم کی فضیلت:

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ؕ    [سورہ توبہ: 36]

حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ مہینے ہے، جو اللہ کی کتاب (یعنی لوحِ محفوظ) کے مطابق اُس دن سے نافذ چلی آتی ہے جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔۔ ان (بارہ مہینوں) میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔

حضرت ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے  کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ زمانہ اپنی اصل حالت پر گھوم کر آگیا ہے۔ اس دن کی طرح جب اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا۔ دیکھو! سال کے بارہ مہینے ہوتے ہیں۔ چار ان میں سے حرمت والے مہینے ہیں۔ تین لگاتار ہیں، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم(اور چوتھا) رجب مضر جو جمادی الاولیٰ اور شعبان کے بیچ میں پڑتا ہے۔ [صحیح بخاری: 4406]

Friday, September 29, 2023

رسول کریم ﷺ

نبی ﷺ کی ذات گرامی اور سیرت طیبہ سے متعلق اکابر علمائے کرام کی تحریرات سے منتخب مختصر مضامین 

Click here to read/Download(PDF)

سیرت سید وُلدِ آدم نبی کریم حضرت محمد ﷺ

ولادتِ مبارکہ

آپ ؐ شہر مکہ میں سردارِ قریش حضرت عبد المطلب کے گھر میں پیدا ہوئے، آپ ؐ کے والد ماجد کا نام نامی عبد اللہ اور والدۂ محترمہ کا اسم گرامی آمنہ تھا۔ آپ کی ولادت سراپا بشارت ربیع الاول کے مہینہ میں دو شنبہ کے دن صبح صادق کے وقت آٹھویں یا بارھویں تاریخ کو ہوئی، انگریزی تاریخ ۲۰؍ اپریل ۵۷۱ء بیان کی گئی ہے، اس وقت ایران میں نوشیروانِ عادل کی حکومت تھی۔

  عجائبات کا ظہور

آپ ؐ کی ولادتِ بابرکت کے وقت بہت سے عجائبات قدرت کا ایسا ظہور ہوا کہ کبھی دنیا میں وہ باتیں نہیں ہوئیں، بے زبان جانوروں   نے انسانی زبان میں آپ ؐ کے تشریف لانے کی خوشخبری سنائی، درختوں سے آوازیں آئیں، بُت پرستوں نے بتوں سے آپ کی آمد کی خوش خبری سنی، دنیا کے دو بڑے بادشاہوں یعنی شاہ فارس اور شاہ روم کو بذریعہ خواب آپ ؐ کی عظمت ورفعت سے آگاہی دی گئی اور یہ بھی ان کو بتایا گیا کہ آپ ؐ کی سطوت وجبروت کے سامنے نہ صرف کسریٰ اور قیصر بلکہ ساری دنیا کی شوکتیں سرنگوں ہو جائیں گی۔ آپ ؐ شکم مادر ہی میں تھے کہ آپ ؐ کے والد ماجد کا انتقال ہو گیا اور چار برس کی عمر میں مادرِ مہربان کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا۔ کسی سے آپ ؐ نے پڑھنا لکھنا کچھ نہیں سیکھا، نہ کسی سے کوئی چیز یا کوئی کمال حاصل کیا حتی کہ شعر و سخن جس کا عرب میں بہت رواج تھا اس کی بھی مشق آپ نے کسی سے نہیں کی۔

نگارِ من کہ بہ مکتب نہ رفت وخط نہ نوشت       بہ غمزہ مسألہ آموز صد مدرّس شد

Sunday, July 30, 2023

مولانا اشرف علی تھانویؒ ( وفات ۲۰ جولائی ۱۹۴۳ء)۔۔۔۔ تحریر علامہ سید سلیمان ندویؒ

 *مولانا اشرف علی تھانویؒ ( وفات ۲۰ جولائی ۱۹۴۳ء)۔۔۔۔ تحریر علامہ سید سلیمان ندویؒ*

[بشکریہ علم وکتاب ٹیلیگرام چینل: https://telegram.me/ilmokitab]

محفل دوشیں کا وہ چراغ سحر جو کئی سال سے ضعف و مرض کے جھونکوں سے بجھ بجھ کر سنبھل جاتا تھا بالآخر ۸۲ سال ۳ ماہ ۱۰ روز جل کر ۱۵؍ رجب ۱۳۶۲ھ؁ کی شب کو ہمیشہ کے لئے بجھ گیا۔
داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئی
اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
یعنی حکیم امت، مجددِ طریقت، شیخ الکل حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے مرض ضعف و اسہال میں کئی ماہ علیل رہ کر ۱۹ اور ۲۰ جولائی کی درمیانی شب کو ۱۰ بجے نماز عشاء کے وقت اس دارفانی کو الوداع کہا، اور اپنے لاکھوں معتقدوں اور مریدوں اور مستفیدوں کو غمگین و مہجور چھوڑا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اب اس دور کا بالکلیہ خاتمہ ہوگیا جو حضرت شاہ امداد اللہ صاحب مہاجر مکی، مولانا یعقوب صاحب نانوتوی، مولانا قاسم صاحب نانوتوی، مولانا شیخ محمد صاحب تھانوی کی یادگار تھا، اور جس کی ذات میں حضرات چشت اور حضرت مجدد الف ثانی اور حضرت سید احمد بریلوی کی نسبتیں یکجا تھیں، جس کا سینہ چشتی ذوق و عشق اور مجددی سکون و محبت کا مجمع الجرین تھا، جس کی زبان شریعت و طریقت کی وحدت کی ترجمان تھی، جس کے قلم نے فقہ و تصوف کو ایک مدت کی ہنگامہ آرائی کے بعد باہم ہم آغوش کیا تھا اور جس کے فیض نے تقریباً نصف صدی تک اللہ تعالیٰ کے فضل و توفیق سے اپنی تعلیم و تربیت اور تزکیہ و ہدایت سے ایک عالم کو مستفید بنا رکھا تھا، اور جس نے اپنی تحریر و تقریر سے حقائق ایمانی، دقائق فقہی، اسرارِ احسانی اور رموزِ حکمتِ ربانی کو برملا فاش کیا تھا، اور اسی لئے دنیا نے اس کو حکیم الامت کہہ کر پکارا، اور حقیقت یہ ہے کہ اس اشرف زمانہ کے لئے یہ خطاب عین حقیقت تھا۔

Tuesday, June 6, 2023

حج کا طریقہ (تمتع)


بسم الله الرحمن الرحيم

 فرائض حج

    1. احرام

    حج کی دل سے نیت کرنا اور تلبیہ یعنی لبیک کہنا

    1. وقوف عرفات

    ۹؍ ذی الحجہ کے زوال آفتاب کے وقت سے ۱۰؍ ذی الحجہ کی صبح صادق تک کسی وقت میدان عرفات میں  ٹہرنا

    1. طواف زیارت

    جو ۱۰؍ ذی الحجہ سے لیکر ۱۲؍ ذی الحجہ تک کبھی بھی کیا جاتا ہے، سر کے بال منڈوانے یا کتروانے کے بعد۔ 

    ان تینوں فرضوں میں سے اگر کوئی چیز چھوٹ جائے گی تو حج صحیح نہوگا اس کی تلافی دَم یعنی قربانی وغیرہ سے بھی نہیں ہو سکتی۔

Sunday, March 19, 2023

روزہ اور تقویٰ

روزہ اور تقویٰ

حضرت مولانا اسرار احمد قاسمیؒ

      لیجئے رمضان المبارک  پیارہ مہینہ رخصت ہوا تراویح کی لمبی لمبی قطاریں شب بیداریاں، تہجد گذاریاں، تسبیح وتہلیل سے معمور راتیں جا چکیں، نہ وہ جھمیلے ہیں اور نہ وہ مقدس چہل پہل ہے۔ کیا روزہ اور رمضان کی غرض وغایت صرف یہیں تک محدود تھی؟ نہیں نہیں ایسا ہر گز نہیں بلکہ اسلام نے اور قرآن عزیز نے روزہ کا مقصد روزہ کی غرض روزہ کا نتیجہ تقویٰ بتایا ہے، دوسرے معنی میں روزہ ایک ایسی انقلابی عبادت ہے جس سے ایک مؤمن کی زندگی کے دھارے مُنقلِب ہو جاتے ہیں، زندگی ایک زبردست انقلاب سے ٹکراتی ہے۔ اگر تمام شرعی قوانین کی رعایت کے مطابق تم نے یہ ماہ مقدس تمام کیا ہے تو یقین جانئے تمہاری رگ رگ میں خشیت الہی، ریشے ریشے میں خوف خدا، خون کے ہر ہر قطرہ میں اللہ کی یاد اس کی عظمت ومحبت جلوہ گر ہو چکی ہے، یقینا روزہ مؤمن کو ایک ایسی شاہراہ پر ڈال دیتا ہے کہ جس سے ایک بندۂ خدا عبدیت کے حقیقی مَدارِج  طے کر لیتا ہے اسے زندگی کی حقیقی معراج نصیب ہوتی ہے، سرمایہ زندگی ملتا ہے یہ وہ دائمی دولت اور لا زوال نعمت ہے جسکی بدولت ایک انسان کائنات ہست وبود میں ممتاز ہو جاتا ہے قرآن عزیز کا لفظ کتنا پیارا ہے کہ روزہ کا بدل تقویٰ ہے، ہمارا مقصد اس لفظ کی تشریح نہیں صرف اتنا بتائے دیتے ہیں کہ تقویٰ کے بعد ایک انسان کا مرتبہ کتنا عظیم ہو جاتا ہے مختلف طریق سے کتب احادیث میں یہ روایت بہت سی جگہ موجود ہے اور اِزالۃ الخفا صفحہ ۲۴۸ پر حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے یہ روایت یوں نقل فرمائی ہے یوم الجبل میں آنحضرت ﷺ اور چند صحابہ کسی پہاڑ پر چڑھے وہ پہاڑ لرزنے لگا حضرت عثمان غنیؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرتؐ نے اپنا پائے مبارک پہاڑ پر مارتے ہوئے فرمایا اُسکُن اے پہاڑ تو ٹھہر جا، ساکن ہو جا، کیونکہ تیری پشت پر صرف ایک نبی ، ایک صدیق اور شہید ہیں، اس روایت سے معلوم ہوا کہ پہاڑ جیسی مستحکم فولادی جسامت لرزنے لگی۔ اس کے لرزنے کی وجہ یقینا یہ سمجھ میں آتی ہے کہ:

Thursday, March 16, 2023

روزہ کی تاریخ اور روحانی حیثیت

 روزہ کی تاریخ اور روحانی حیثیت

حضرت مولانا اسرار احمد قاسمیؒ

یہ امر ابھی تشنۂ تکمیل ہے کہ روزہ افراد ِ انسانی میں کس دور کی یادگار ہے اور سب سے پہلے کس قوم نے اس آواز پر لبیک کہا۔ جہاں تک ہماری کم مائیگی اور تہی دستی کا تعلق ہے کسی محقق نے آج تک یہ راز  آشکارا نہیں کیا کہ روزہ کب سے ہے ؟

انگلستان کا مشہور حکیم ہربرٹ اسپنسر اپنی مایہ ناز تصنیف سوشیالوجی (اصول معاشرت) میں چندوحشی قبائل کی تمثیل دیتے ہوۓ یوں رقم طراز ہے :

’’ہوسکتا ہے کہ انسان دور ِ وحشت و جہالت میں بھوکا رہ کر یہ تصوّر کرتا ہو کہ میرا یہ کھانا ارواح کو پہنچ جاتا ہے۔‘‘

مگر اربابِ دانش نے اس قول کی تردید کر دی ہے۔ (انسائیکلوپیڈیابحوالہ سیرۃ جلد چہارم )

Wednesday, September 7, 2022

تذکرہ: حضرت مخدوم علی ماہمیؒ Hazrat Makhdoom Ali Mahimi RA

 

حضرت مخدوم علاء الدین علی مہائمیؒ

(مؤرخ اسلام حضرت مولانا قاضی اطہر مبارک پوریؒ[1])

جنوبی ہند علم وفضل اور دین و دنیا میں ہمیشہ سے مشہور رہا ہے اور یہاں بڑے بڑے فضلائے روزگار پیدا ہوئے ہیں۔ خود بمبئی کے اطراف میں جبکہ بمبئی کا نام و نشان بھی نہ تھاعلمائے اسلام اور بزرگان دین رہا کرتے تھے اور ان کے علمی اور دینی تعلقات ساحلی مقام ہونے کی وجہ سے ممالک اسلامیہ اور حجاز پاک سے رہا کرتے تھے۔ شاہانِ گجرات، شاہانِ بہمنی دکن، شاہانِ عادل شاہی، شاہانِ نظام الملکی کے زمانے میں گویا یہ علاقہ حجاز کا ایک تکڑا تھا، جس میں علم و فضل کے اعاظم رجال موجود تھے اس سلسلہ میں جنوبی ہند کو بعض ایسی خصوصیات  حاصل ہیں جو شمالی ہند کو حاصل نہیں ہیں۔

Tuesday, November 23, 2021

تلاوت قرآن کا ایصال ثواب

 



Download/Read in PDF

سوال: میت کے انتقال کے وقت جو قرآنِ پاک کا ایصال ثواب کرتے ہیں اُس کو کچھ لوگ بدعت کہنے لگے ہیں، اس پر علمی تحقیق و شرعی جواز کی دلیل مطلوب ہے۔

الجواب: الحمد لله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفى:

سب سے پہلی بات اس مسئلہ میں  یہ جان لینا چاہئے کہ انتقال کے وقت مروجہ قرآن خوانی جس میں اجرت پر  قرآن پڑھا جاتا  ہے یا  لوگوں کو خاص اسی کے لیے جمع کیا جاتا ہے، تو اس   کی کوئی اصل نہیں یہ بدعت ہے۔  [فتاوی امدادیہ: باب الجنائز،  ج۱، ص۷۷۴، ۷۸۱]

دوسری بات نفس ایصال ثواب کا مسئلہ ہے تو نفس ایصال ثواب  بدعت نہیں ہے۔ احادیث سے مختلف نیک اعمال کا ثواب  مُردوں کو پہنچنا ثابت ہے اور خیر القروان سے اس پر عمل جاری ہے۔ اس مسئلہ پر حافظ ابن ہمامؒ (متوفی ۶۸۱ھ) نے ’’فتح القدیر‘‘ میں  اور حافظ ابن  قیمؒ  (متوفی ۷۵۱ھ)  نے اپنی مشہور کتاب ’’الروح‘‘ میں نیز علامہ سیوطیؒ (متوفی ۹۱۱ھ)نے  ’’شرح الصدور فی احوال الموتی والقبور‘‘ میں سَیر حاصل بحث کی ہے ۔

Monday, November 15, 2021

آداب مباشرت

 



آداب مباشرت 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

۱۔ دلہا و دلہن کو شادی کی مبارک باد  ان الفاظ میں دیں:

بَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ، وَبَارَكَ عَلَيْكُمْ، وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ ۔ [سنن ابن ماجه: 1905]

اللہ تم کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھے، اور تم دونوں میں خیر پر اتفاق رکھے۔


۲۔ جب دلہن رخصت ہو کر گھر میں آئے تو دلہن کی پیشانی پکڑ کریا ہاتھ رکھ کر یہ دعا پڑھے:

اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَمِنْ شَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ، [سنن أبو داود: 2160]

اے اللہ میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس کی عادتوں کی بھلائی کا سوال کرتا  ہوں ، اس کے شر اور اس کی بری عادتوں سےتیری پناہ مانگتا ہوں۔

Thursday, July 1, 2021

The laws of Halal and Haram animals

The laws of Halal and Haram animals

askimam.org - Fatwa: # 22647



Foreword by Mufti Ebrahim Desai Saheb

Apart from discussing the principles that distinguish between Halal and Haram in animals, fish and birds, the interesting aspect in this research is the enumeration of approximately 300 animals and their categorization as Halal or Haram. The chart at the end provides this useful information at one glance. The academic references will be particularly useful for the Ulama.

­­­­­­­­­­­­­Allah Ta'ala has granted us human beings with innumerable blessings and bounties. He has made us the best of creation and made other creations subservient to us. Consider the following verses:

·         “Allah is the one who created the skies and the earth and sent down rain from the skies produced thereby some fruits as provision for you.” (14:32)[1]

·         “And He has subjected to you whatever is in the heavens and whatever is on the earth - all from Him.” (45:13)[2]

·         “And indeed, for you in livestock is a lesson. We give you drink from that which is in their bellies, and for you in them are numerous benefits, and from them you eat.” (23:21)[3] 

·         “Do they not see that We have created for them from what We have made, grazing livestock, and [then] they are their owners? And We have tamed them for them, so some of them they ride, and some of them they eat.” (36:71-72)[4]

However, this does not mean that we can consume anything we wish. Allah Ta'ala has set boundaries for us to adhere to. There are some things that He has declared impermissible in the Holy Quran such as swine (pig) and intoxicants.[5] We may not be able to understand the reasoning behind certain laws and ordainments of Allah Ta'ala, but He alone is the All-Knowing, All-Merciful; the best to decide what is beneficial and harmful for us.

This paper hopes to expound on which animals and creatures are permissible and impermissible for us Muslims to consume in the Hanafi school of thought based on the Quran, Ahadith and texts of the illustrious Fuqahaa. A list of permissible and impermissible animals will be provided at the end of the paper.

Wednesday, June 16, 2021

اردو زبان قاعدہ: مولوی محمد اسماعیل میرٹھیؒ

Click here to read/download 


اردو زبان قاعدہ: مولوی محمد اسمٰعیل میرٹھی

Urdu Zaban Qaeda: Moulvi Muhammed Ismail Meeruthi




Monday, June 14, 2021

Kutub Khana - Raza Ali Abidi - BBC (Complete 1 to 24)


رضا علی عابدی صاحب کا بی بی سی پر نشر کیا گیا پروگرام ’کتب خانہ‘ جس میں موصوف نے سلسلہ وار گفتوگو میں بڑے دلچسپ انداز سے بیان کیا ہے کہ بر صغیر میں قدیم کتابیں کہاں کہاں اور کس حال میں ہیں۔

Tuesday, May 25, 2021

تذکرہ: حضرت الاستاذ مولانا حبیب الرحمن اعظمی قاسمی رحمہ اللہ


تأثرات بروفات محدث شہیر حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی قاسمیؒ از قلم حضرت مولانا مفتی ابو القاسم صاحب نعمانی دامت برکاتھم (مہتمم وشیخ الحدیث دار العلوم دیوبند) 

Click here to read/download PDF

بشکریہ: telegram.me/darulmuallifeen

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

اگر چہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دنیا میں آنے والے ہر مسافر کی آخری منزل موت ہے اور یکے بعد دیگرے سب کو اس منزل پر پہنچنا ہے۔ اس لیے اس دنیا سے کسی کا کوچ کر جانا کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود بعض شخصیتیں ایسی گونا گوں خصوصیات اور ہمہ گیر صلاحیتوں کی مالک ہوتی ہیں کہ ان کا اس عالم سے رخصت ہو جانا واقعۃ ایک عظیم حادثہ ہوتا ہے جن کے فراق اور جدائی سے پوری قوم وملت سوگوار ہو جاتی ہے۔

(کلمات مبارکہ حضرت الاستاذ مولانا حبیب الرحمن اعظمی قاسمیؒ بر وفات حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ: ماہ نامہ دار العلوم دیوبند، وفیات نمبر اپریل، جولائی ۱۹۹۶) 

Sunday, May 23, 2021

بیت المقدس: ایک اجمالی خاکہ

Click here to read/download PDF

 اسلام میں بیت المقدس کی اہمیت اور اس کی تاریخ پر ایک سوال کے جواب میں مختصر تحریر


بسم اللہ الرحمن الرحیم

پس منظر:

مسجد اقصی یا بیت المقدس شہر یروشلم میں واقع ہے اور یروشلم ارض مقدس کا حصہ ہے۔   قدیم زمانہ میں اس علاقہ کو  کنعان  پھر فلسطین کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔ یہ خطۂ ارض موجودہ دور میں اسرائیل ، فلسطین، کچھ حصہ اُردن،  لُبنان اور ملک شام (سوریا) پر محیط ہے۔

مسجد اقصی متعدد انبیاء کرام ؑ کا مسکن اور مرکز رہا ہے، یہیں سے توحید کی دعوت دور دراز علاقوں تک پھیلی اس علاقہ کو اللہ تعالی نے برکت والا علاقہ قرار دیا ہے اسی لئے اس کی مذہبی اہمیت  و مرکزیت کے قائل یہودی، عیسائی اور مسلمان ہمیشہ سے رہے ہیں کیونکہ حضرت ابراہیمؑ اور انکے بعد آنے والے کئی ایک پیغمبر جو اس خطہ میں مبعوث ہوئے ان کا تعلق ان تینوں قوموں سے ہے۔

عیسائوں کے یہاں ایک خاص وجہ اہمیت کی یہ بھی ہے کہ انکے عقیدے کے مطابق عیسیٰ ؑ کو یروشلم ہی میں سولی پر چڑھایا گیا اور دفن کیا گیا تھا چنانچہ مسجد اقصی سے کچھ فاصلہ پر انکا سب سے اہم چرچ موجود ہے جس کے نیچے وہ عیسیؑ کی قبر بتاتے ہیں اور عیسیؑ کا مقام پیدائش بیت لحم یروشلم سے قریب ہی واقع ہے۔

اسلامی حیثیت:

نبی ﷺ سے متعدد حدیثوں میں مسجد اقصی کی فضیلت ثابت ہے چنانچہ حضور ﷺ نے فرمایا: تین مسجدوں کے سوا کسی کے لئے رخت سفر نہ باندھے جائیں؛ مسجد الحرام، مسجد الاقصی اور میری مسجد (مسجد نبوی) [بخاری: ۱۱۹۷] اور ایک حدیث میں آپ ﷺ نے مسجد اقصی میں نماز پڑھنے کو پچاس ہزار نماز کے برابر فرمایا۔ [ابن ماجہ: ۱۴۱۳] حضرت ابوذرؓ نے نبی ﷺ سے معلوم کیا کہ: سب سے پہلے روئے زمین پر کون سی مسجد بنی؟ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ مسجد الحرام پھر سوال کیا کہ اور اس کے بعد؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مسجد الاقصی (بیت المقدس) [بخاری: ۳۳۶۶] نبی ﷺ نے مسجد اقصی کی جانب رخ کر کے کچھ سولہ مہینہ نماز پڑھی ہے پھر بحکم الہی بیت اللہ کو قبلہ قرار دیا گیا۔ نیز معراج کی رات اسی مقام پر حضور ﷺ نے عجائبات قدرت کا مشاہدہ کیا اور پھر یہیں سے آپ ﷺ کو معراج ہوئی۔

مذکورہ بالا روایات سے اسلام میں بیت المقدس کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے لئے منجملہ تین مقامات مقدسہ میں سے ایک ہے۔

Monday, July 27, 2020

मसाइल ईद उल अज़हा



हज़रत मौलाना असरार अहमद क़समी 
पूर्व इमाम व खतीब चटनी मौहल्ला मस्जिद, मुंबई - 4 
संस्थापक मदरसा अरबिया जामिया राशिदिया, मलकपुर, बुलंदशहर 

हर एक मुसलमान, मर्द और औरत जो मुसाफिर न हो, जिस के पास कुर्बानी के दिनों में कर्ज काट ने के बाद बक़दरे निसाब (87g सोना या 612g चांदी) या 612g चांदी की कीमत का कोई माल हो, रुपए पैसे या कोई और चीज, जो बुनियादी जरूरत से ज्यादा और फालतू हो, उस पर कुर्बानी वाजिब है।

तकबीरे तशरीक: 9 जिल हिज्जह की फ़जर से तकबीरे तशरीक हर उस मुसलमान पर वाजिब है जिस पर पाँच वक्त की नमाज़ फ़र्ज़ है चाहे मर्द हो या औरत, मुकीम (निवासी) हो या मुसाफिर। मर्द बुलंद आवाज से पढ़ें, औरतें आहिस्ता। ये तकबीरें 13 जिल हिज्जह की असर तक पढ़ी जाएं सिर्फ एक बार पढ़ना वाजिब है।

اَللهُ اَكْبَرُ اَللهُ اَكْبَرُ لآ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاللهُ اَكْبَرُ اَللهُ اَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ