Featured Post

بداية المتعلم: کلمے، دعائیں، وضو، غسل اور نماز

  Click here to read/download (PDF) بسم الله الرحمن الرحيم اسلام کے کلمے کلمۂ طیبہ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُو ْ لُ ال...

Thursday, March 16, 2023

روزہ کی تاریخ اور روحانی حیثیت

 روزہ کی تاریخ اور روحانی حیثیت

حضرت مولانا اسرار احمد قاسمیؒ

یہ امر ابھی تشنۂ تکمیل ہے کہ روزہ افراد ِ انسانی میں کس دور کی یادگار ہے اور سب سے پہلے کس قوم نے اس آواز پر لبیک کہا۔ جہاں تک ہماری کم مائیگی اور تہی دستی کا تعلق ہے کسی محقق نے آج تک یہ راز  آشکارا نہیں کیا کہ روزہ کب سے ہے ؟

انگلستان کا مشہور حکیم ہربرٹ اسپنسر اپنی مایہ ناز تصنیف سوشیالوجی (اصول معاشرت) میں چندوحشی قبائل کی تمثیل دیتے ہوۓ یوں رقم طراز ہے :

’’ہوسکتا ہے کہ انسان دور ِ وحشت و جہالت میں بھوکا رہ کر یہ تصوّر کرتا ہو کہ میرا یہ کھانا ارواح کو پہنچ جاتا ہے۔‘‘

مگر اربابِ دانش نے اس قول کی تردید کر دی ہے۔ (انسائیکلوپیڈیابحوالہ سیرۃ جلد چہارم )

عہد آدم

 از آدم تا ایں دم مذہبی حیثیت سے کون ہے جو انکار کرے کہ روزہ کا وجود نہیں چنانچہ امتِ آدم یا اولاد ِ آدم میں روزہ کا انداز یہ تھا کہ ہر ماہ ۱۳، ۱۴، ۱۵ قمری تاریخوں میں روزہ رکھا کرتے تھے۔ ملت اسلامیہ  میں یہ طریقۂ سنت آج بھی موجود ہے ۔ بہت سے مسلمان ان تاریخوں میں آج روزے رکھتے ہیں۔ ان روزوں کو ایام بیض کہتے ہیں ۔ احادیث نبوی میں اس کی بے حد فضیلت وارد ہے ۔ اگر ہر ماہ تین روزہ رکھ کر پورے برس کا حساب لگایا جاۓ تویہ روزے ایک ماہ سے بھی زیادہ ہوجاتے ہیں۔

عہدِ یہودیت

 حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام تجلیات ِ ربانی کا دیدار کرنے جب کوہ طور پر تشریف لے گئے اور وحی الہٰی سے مشرف بہ کمال ہوئے تو نزول اجلال سے قبل خداوند قدیر کا حکم ملا کہ بحالت اعتکاف ایک ماہ روزے رکھو ایک عارضی کوتاہی پر یہ حکم مزید دس دن بڑھا کر پورے چالیس دن کردیئے گئے ۔گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مسلسل چالیس روزے رکھے۔ لہٰذا بہ اتباع نبی ان کی امت، قوم یہود بھی بطور استحباب چالیس روزے رکھنے لگی لیکن چالیسویں دن کا روزہ ان پر فرض قرار دیا گیا ، جو انکے ساتویں مہینے (تشرین) کی دس تاریخ کو پڑتا ہے ، اسی واسطے اس کو یوم عاشورہ کہتے ہیں ۔ تاریخ بنو اسرائیل میں یہی وہ دن ہے جب کہ حضرت موسیٰ کو دستور زندگی کے دس احکام عطاہوئے۔

عہد عیسائیت

 نصرانیت کے عہد اولین میں تو مثل امت مسلمہ ایک ماہ روزےرکھنے کا حکم تھا ، لیکن علماء عیسائیت نے اپنی جہالت سے روزہ کے احکامات میں ترمیم و تنسیخ کر ڈالی، جس کی تشریح علماء نے یہ بیان کی ہے کہ روزے اتفاق سے کبھی گرمی میں آتے کبھی سردی میں جب کبھی گرمی ہوتی تو شدت پیاس سے جاں بلب ہوجاتے اور موسم سردی میں بھوک سے نڈھال ہوجاتے اس لئے ایک کانفرنس میں یہ طے ہوا کہ روزے موسم بہار میں رکھے جائیں ۔ فرمودات الہٰیہ میں انسان کی ردّو قدح کا کیا وزن ، لہٰذا عتاب ربّانی ہوا اور بطور سزا  انہیں حکم دیا گیا کہ اب تم چالیس دن کے روزے رکھو۔ اتفاقا ایک ہر دلعزیز بادشاہ بیمار ہو گیا جسے تقریبا تمام عیسائی چاہتے تھے اس کے عدل و انصاف گستری ، رعایا پروری کے بیحد مدّاح تھے۔ سب نے مل کر یہ نذر مانی کہ اگر بادشاہ صحت مند ہو گیا تو ہم مزید دس دن کے روزے رکھا کریں گے ، خدا کی شان دیکھئے بادشاہ صحت یاب ہوگیا ۔ اسی دن سے عیسائی پچاس دن کے روزے رکھنے لگے ، لیکن ہوا یہ کہ (ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے) ان پچاس روزوں کی مسلسل محنت و مشقت اس قدر بھاری معلوم ہوئی کہ ان ظالموں نے انجیل کے احکامات سے روزہ ہی منسوخ کردیا ، اور ہمیشہ کے لئے روزہ ترک کردیا۔

عہد برہمنیت

 ہندوستانی اقوام کو سب سے زیادہ دعوئے قدامت ہے ۔ اپنی قدیم روایات قدیم اقدار پر ناز ہے ، آیئے اور دیکھئے برت کے نام سے روزہ یہاں بھی موجود ہے ۔ روزہ سے باشندگانِ ہند بھی آزاد نہیں ۔ ہر مہینہ کی ۱۱، ۱۲ تاریخ میں اکادشی کا برت ہے اور رکھنے کا حکم ہے ۔ اس اعتبار سے آپ حساب لگایئے سالانہ ۲۴ روزے ہوتے ہیں ۔ بعض برہمن کاتک کے مہینہ میں ہر دو شنبہ کو برت رکھتے ہیں ۔ آپ سادھوؤں، جوگیوں اور بھگتوں کو دیکھئے ان میں سے بعض جب چلہ کشی کرتے ہیں تو چالیس چالیس دن تک روزے رکھتے ہیں کھانے پینے سے بھی کبھی کبھی احتراز کرتے ہیں

عہد جینیت

 باشندگان ہند میں بعض کا مذہب جینی ہے ۔ اس قوم میں برت کے اصول سب سے زیادہ سخت اور شرائط سب سے انوکھے ہیں ۔ یہ قوم گجرات اور علاقہ دکن میں بکثرت ہے ۔ کئی کئی ہفتہ کا روزہ رکھ لینا ان کے لئے عام بات ہے اور بعض بعض تو چالیس چالیس دن کا برت رکھ لیتے ہیں ۔

اسی طرح کنعانی، کلدانی، بابلی ، مصری تمام اقوام میں آپ کو روزہ کا تخیل ملے گا ۔ مصری قوم جس دن روزہ رکھتی اس دن جشن مناتی ، اور اس دن کو تہوار اور بطور عید تصور کیا جاتا یونان میں بھی روزہ رکھا جاتا تھا ۔ چنانچہ وہاں عورتیں بکثرت اس کی عادی ہیں ۔ آتش پرست قوم فارسیوں میں اگر چہ روزہ کی حیثیت فرضیت کے جیسی نہیں ہے ، مگر ان کے صحیفہ الہامی سے یہ بخوبی آشکارا ہے کہ روزہ کونسی نعمت عظمی ہے۔  اور ایک مقام پر روزہ کا بصیرت افروز فائدہ یہی بیان کیا  گیا ہے ۔

روزہ کے روحانی فائدے

 سطور بالا سے یہ بات خوب روشن ہوگئی کہ دنیا کی کوئی قوم ایسی نہیں جو روزہ سے بے نیاز ہو ، لیکن شرائط و اسباب ، طریقہ کار اور فروعی اختلاف بیشک موجود ہے، ہاں اصل مراد میں سب متحد ہیں ۔ روزہ کو استحسان کی نظر سے سب نے دیکھا ہے ۔ تزکیہ نفس، طہارت ِ باطن ، خشیت و اخلاص ، انبساط و سرور سب کے پیش نظر اور مقصد اول ہے۔

 عہد عرب

 پیغمبر ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اولاد کا اسمٰعیلی سلسلہ نہ صرف روزہ سے آشنا ہے بلکہ یہ عرب بھی روزہ رکھا کرتے تھے ۔

مسند ابن حنبل کی ایک روایت میں یوں مذکور ہے کہ قریش جس دن خانہ کعبہ پر غلاف ڈالتے اسی دن روزہ بھی رکھتے تھے اور یہ غلاف عموما محرم کی دسویں تاریخ    کو ڈالا کرتے تھے ، اسی کو یوم عاشورہ کہتے ہیں اور اس روزہ کا نام صوم عاشورہ تھا ۔

تنبیہ: یہاں اس کی وضاحت ضروری ہے کہ صوم عاشورہ یہودی بھی رکھا کرتے تھے اور اہل عرب بھی ، مگر دونوں کے مقاصد میں بہت بڑا اختلاف تھا ،   قریش مکہ غلاف بیت اللہ کی خوشی میں اور یہود حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام و احکامات تورات ملنے کی خوشی میں ۔

یہ روزہ آج بھی اہل اسلام میں بطور سنت رکھا جاتا ہے اور عموما دیندار طبقۂ مسلم میں بکثرت مسلمان رکھتے ہیں ۔

روزہ اور عہد اسلام

 روزہ کی فرضیت اور اس کا حکم بہ روایت ابن جریر طبری سنہ ۲ھ میں ہوا ہے۔ مسلمانوں نے جیسے ہی یہ مژدہ جانفزا  سُنا ہے خوشی خوشی روزے رکھنے لگے ۔ فیض رسول اور صحبت نبوی نے مسلمانوں کے قلوب کو اس قدر تابناک بنا دیا تھا کہ جونہی آسمانی حکم ملتا ، گویا پوری کائنات مل گئی، اس قدر خوگر بندگی ہوگئے تھے کہ اگر بہ تقاضاۓ بشریت کوئی جرم سرزد ہو گیا تو سزا و حَد کے لئے خود کو دربار ِ رسول میں پیش کردیتے تھے خواہ جان عزیز سے کیوں ہاتھ نہ دھونے پڑیں ۔ اپنی خواہشات اور تمناؤں کو حکم سنتے ہی گویا ذبح کرڈالتے ۔

عرب کی سرزمین اور شراب نہ پی جاۓ ، بچہ بچہ شراب کے نجس دریا میں غرق تھا ، مگر جس وقت آقاۓ دوجہاں حضرت محمد پیارے مصطفٰے ﷺ  کا ایک منادی مدینہ طیّبہ کی گلیوں میں یہ اعلان کرتا ہے کہ مسلمانو ! شراب حرام ہے تو سنتے ہی جام و صراحی تو ڑڈالے ۔ راوی کا بیان ہے کہ جس کے حلق میں اس کے نجس قطرات موجود تھے اس نے کلی کردی اور جو حلق سے اترچکی تھی انگلی ڈال کر قے کردی ۔ مدینہ کے گلی کو چوں میں جگہ بہ جگہ شراب بہتی پھر رہی تھی ۔ اسی طرح جب پردہ کا حکم ہوا  ، حکم سنتے ہی ماں بہنیں سروں کو ڈھانپنے لگیں ۔

اسلامی روزہ

ان مختصر اوراق میں ہمارا مقصد روزہ کے فضائل پر بحث کرنا نہیں کیوں کہ اس موضوع پر اکابرین علماء کی بہت سی کتابیں موجود ہیں، دوسرے روزہ کا خیر کثیر مجموعہ روحانیت ہونا فضائل ہی پر موقوف نہیں۔ روزہ ایک سراپا عمل ہے جس کی تشریح پیغمبر اسلام  نے یوں بیان فرمادی ہے ۔ ترمذی شریف میں باسناد صحیح بیان کیا گیا ہے :

حديث: ومن لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة بأن يدع طعامه وشرابه

ترجمہ : جو شخص بحالت روزہ بھی جھوٹ بولنا ترک نہ کرے ایسےروزہ دار کے بھوکا پیاسا رہنے کی خدا کو ضرورت نہیں ہے

حديث: كم من صائم ليس له من صومه إلا الجوع والعطش

ترجمہ : کتنے ہی روزہ دار ایس ہیں جنہیں روزہ سے سواۓ بھوک و پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا

ان احادیث سے یقینا اتنا معلوم ہو گیا کہ اسلام روزہ کے باب میں صرف بھوک و پیاس کا طالب نہیں ہے بلکہ وہ روزہ دار سے ایک روحانی انقلاب کا طلبگار ہے۔  روزہ دار اپنے خیالات میں پاکیزگی پیدا کرے، دل و دماغ پاک و صاف رکھے ۔ آنکھ غیر کے مال و متاع غیر محرم دوسرے کی بہو بیٹی کی طرف دیکھنے سے محفوظ رہے باطن میں طہارت کے جو ہر پیدا کرے ۔ فواحش ، گالی ، کوسنا، غیبت، جھوٹ ، تہمت چغلی ، الزام ، بہتان سے زبان کو پاک و صاف رکھے ۔ راگ راگنی، رقص و سرور ، ساز باجا ، گانا گیت ، گندے اشعار ، فحش مذاق، ناجائز قول و قرار ، ناپاک وعدے جھوٹے عہد سے محفوظ رکھے ۔ ناک غیر محرم کی خوشبو، ناپاک مشروبات ، شراب وغیرہ کے سونگھنے سے بچاۓ ۔ ہاتھ چوری  ڈاکہ زنی ، جیب کترنا ، کسی کو ایذا و تکلیف پہنچا نے سے روکے ۔ ٹانگیں غلط راہوں پر چلنے سے بُری محفلیں، ناجائز مجمع غلط اڈے ، تھیٹر، سینما ، عریاں بازار ان ناپاک مقامات سے احتراز کریں ۔ ہمہ وقت کام و دہن رُواں رُواں ، جسم کا ایک ایک عضو اس قدر خوگر  بندگی ہو جاۓ کہ دل میں خدا کی یاد ، اس کی تڑپ ، اس کی سوزش ، ذکر و فکر ، انابت و تلاوت و تسبیح و تہلیل مقصد زندگی بن جاۓ۔

دنیا میں قاعدہ ہے کہ ہر موسم خزاں کے بعد موسم بہار آتا ہے غنچے مہکنے لگتے ہیں کلیاں چٹخنے لگتی ہیں ، پھول کھلنے لگتے ہیں ، مست ہواؤں کے جھونکے بے خود بنا دیتے ہیں ۔ اسی طرح پرور دگار عالم نے ہر مسلمان پر روحانیت کا ایک موسم بہار رکھا ہے اس موسم میں خون کا قطرہ قطرہ ، جسم کا ذرہ ذرہ روحانیت کے سمندر میں غرق ہو جاتا ہے اور اس انقلابی بندگی سے زندگی میں تابندگی جلوہ گر ہو جاتی ہے ۔ ہمیں سخت حیرت ہوتی ہے کہ ہماری سعی بلیغ ، جدّ و جہد ، مسلسل ایک ماہ بھوک و پیاس کا مجاہدہ بے کیف اور بے مقصد ہو جاتا ہے ۔ سچ بتائیے کیا روزہ کے تمام آداب پر عمل کیا جاتا ہے ۔ پیغمبر اسلام کا حکم تو یہ ہے کہ اگر کوئی تم سے جھگڑا کرے تو غصہ نہ کرو اور یوں کہہ دو کہ آج میرا روزہ ہے ۔

مگر روزہ جب رکھ لیا تو آپ تلوار بے نیام ہیں ، آتش فشاں ہیں ، آنکھوں سے شعلے بھڑک رہے ہیں ۔ دیکھئے اک بندہ مومن کا روزہ اس کی دینی بصیرت اس کی روحانی بیداری کا عَلم  بردار ہوتا ہے ۔ روزہ تو رکھتے ہی ہیں کاش ہم روزے کے آداب ، مقاصد ، شرائط و اصول پر بھی عمل کریں۔ (آمین) 

No comments:

Post a Comment