Featured Post

بداية المتعلم: کلمے، دعائیں، وضو، غسل اور نماز

  Click here to read/download (PDF) بسم الله الرحمن الرحيم اسلام کے کلمے کلمۂ طیبہ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُو ْ لُ ال...

Friday, December 15, 2017

ائمہ اربعہ اور ان کی خصوصیات

ائمہ اربعہ اور ان کی خصوصیات
حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ 

           اسلام جزیرۃ العرب سے (جہاں زندگی سادہ اور تمدن انتہائی محدود تھا) نکل کر مصر و شام، عراق و ایران اور دوسرے وسیع، زرخیز اور سر سبز و شاداب خطوں میں پہنچ گیا تھا، جہاں کا نظام تمدن و معیشت، تجارت، انتظام ملکی، سب بہت وسیع اور پیچیدہ شکلیں لیے بڑی  اعلیٰ ذہانت، معاملہ فہمی، باریک بینی، زندگی اور سوسائٹی سے وسیع واقفیت، انسانی نفسیات اور اس کی کمزوریوں سے باخبری، قوم کے طبقات اور زندگی کے مختلف شعبوں کی اطلاع اور اس سے پیشتر اسلام کی تاریخ، روایات اور روح شریعت سے گہری واقفیت  عہد رسالت اور زمانۂ صحابہ کے حالات سے پوری آگاہی اور اسلام کے پورے علمی ذخیرہ (قرآن وحدیث اور سنت و قواعد) پر کامل عبور کی ضرورت تھی۔

             یہ اللہ کا بڑا فضل تھا اور اس امت کی اقبال مندی کہ اس کار عظیم کے لیے ایسے لوگ میدان میں آئے، جو اپنی ذہانت، دیانت، اخلاق اور علم میں تاریخ کے ممتاز ترین افراد ہیں، پھر ان میں سے چار شخصیتیں امام ابو حنیفہؒ (م: ۱۵۰ھ)، امام مالکؒ (م: ۱۷۹ھ)، امام شافعیؒ (م: ۲۰۴ھ)، امام احمد بن حنبلؒ (م: ۲۴۱ھ)، جو فقہ کے چار دبستان فکر کے امام ہیں، اور جن کی فقہ اس وقت تک عالم اسلام میں زندہ اور مقبول ہے، اپنے تعلق باللہ، للہیت، قانونی فہم، علمی انہماک اور جذبہ خدمت میں خاص طور پر ممتاز ہیں، ان حضرات نے اپنی پوری زندگی اور اپنی ساری قابلیتیں اس بلند مقصد اور اس اہم خدمت کے لیے وقف کر دی تھیں، انہوں نے دنیا کے کسی جاہ و اعزاز اور کسی لذت و راحت سے سروکار نہیں رکھا تھا۔ امام ابو حنیفہؒ کو دو بار عہدۂ قضاء پیش کیا گیا اور انہوں نے انکار کیا، یہاں تک کہ قید خانہ میں ہی آپ کا انتقال ہوا۔ امام مالکؒ نے ایک مسئلہ کے اظہار میں کوڑے کھائے اور ان کے شانے اتر گئے، امام شافعیؒ نے زندگی کا بڑا حصہ عسرت میں گزارا اور اپنی صحت قربان کردی، امام احمد بن حنبلؒ نے تن تنہا حکومت وقت کے رجحان اور اس کے ’’سرکاری مسلک‘‘ کا مقابلہ کیا اور اپنے مسلک اور اہل سنت کے طریقہ پر پہاڑ کی طرح جمے رہے، ان میں سے ہر ایک نے اپنے موضوع پر تن تنہا اتنا کام کیا اور مسائل و تحقیقات کا اتنا بڑا ذخیرہ پیدا کر دیا، جو بڑی  منظم جماعتیں اور علمی ادارے بھی آسانی سے نہیں پیدا کر سکتے۔ امام ابو حنیفہ نے تراسی (۸۳) ہزار مسائل اپنی زبان سے بیان کئے، جن میں سے اڑتیس (۳۸) ہزار عبادات سے تعلق رکھتے ہیں اور پینتالیس ہزار معاملات سے۔ (فخر الاسلام: ۲؍۱۸۸، بحوالہ مناقب ابی حنیفہؒ: ۹۶)

 شمس الائمہ کردی نے لکھا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے جس قدر مسائل مدون کئے، ان کی تعداد چھ لاکھ ہے، (سیرۃ انعمان، مولانا شبلی نعمانی، بحوالہ قلائد عقود الجمان) المدونہ میں جو امام مالکؒ کے فتاویٰ کا مجموعہ ہے، (چھتیس ہزار) مسائل ہیں۔ کتاب الام، جو امام شافعیؒ کے افادات کا مجموعہ ہے، سات ضخیم جلدوں میں جمع کئے۔

اسلام کی ابتدائی صدیوں میں ان ائمہ فن اور صاحب اجتہاد علماء کا پیدا ہو جانا، اس دین کی زندگی اور  امت کی کار کردگی کی صلاحیت کی دلیل تھی، ان کی کوششوں اور ذہانتوں سے اس امت کی عملی معاملاتی زندگی میں ایک نظم اور وحدت پیدا ہو گئی اور اس ذہنی انتشار اور معاشرتی بے نظمی اور ابتری سے محفوظ ہو گئی، جس کی دوسری قومیں اپنے ابتدائی عہد میں شکار ہو چکی تھیں اور وہ تدریجی طور پر ایسے غیر اسلامی قوانین کو انہیں اختیار کرنا  پڑتا، جو اس کی دینی روح اور اصول و مبادی سے متصادم ہوں اور وہ مسیحی یورپ کے نظریہ دین و سیاست کی تفریق کے ان اصولوں کو اختیار کر نے پر مجبور ہو جاتے، جو خاص حالات و ماحول اور مسیحی مذہب کی مخصوص وضع اور ساخت کا نتیجہ تھا۔

(حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ: اجتہاد کی حاجت و ضرورت،ص۶،  ناشر: اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا) 

No comments:

Post a Comment