شبِ برأت میں قبرستان جانا
حضرت مفتی محمد تقی عثمانی مد ظلہم العالی
حضرت مفتی محمد تقی عثمانی مد ظلہم العالی
اِس رات میں ایک اور عمل ہے، جو ایک روایت سے ثابت ہے، وہ
یہ کہ حضور نبی کریم ﷺ جنت البقیع میں تشریف لے گئے تھے۔ اس لئے مسلمان اس بات کا
اہتمام کرنے لگے کہ شب برأت میں قبرستان جائیں۔ لیکن میرے والد ماجد حضرت مفتی
محمد شفیع صاحب قدس اللہ سرہ ایک بڑی کام کی بات بیان فرمایا کرتے تھے۔ ہمیشہ یاد
رکھنی چاہئے۔ فرماتے تھے کہ جو چیز رسول کریم ﷺ سے جس درجے میں ثابت ہو، اسی
درجہ میں اسے رکھنا چاہئے۔ اُس سے آگے نہیں بڑھانا چاہئے، لہذا ساری حیات طیبہ
میں رسول کریم ﷺ سے ایک مرتبہ جنت البقیع جانا مروی ہے، کہ آپ شب برأت میں
جنت البقیع تشریف لے گئے۔ چونکہ ایک مرتبہ جانا مروی ہے، اس لئے تم بھی اگر زندگی
میں ایک مرتبہ چلے جاؤ ٹھیک ہے۔ لیکن ہر شب برأت میں جانے کا اہتمام کرنا، التزام
کرنا، اور اس کو ضروری سمجھنا، اور اس کو شب برأت کے ارکان میں داخل کرنا اور اس
کو شب برأت کا لازمی حصہ سمجھنا، اور اس کے بغیر یہ سمجھنا کہ شب برأت نہیں ہوئی،
یہ اس کو اس کے درجے سے آگے بڑھانے والی بات ہے۔ لہذا اگر کبھی کوئی شخص اس نقطہ
نظر سے قبرستان چلا گیا کہ حضور نبی کریم ﷺ تشریف لے گئے تھے، میں بھی آپ کی اتباع میں جا رہا ہوں۔
تو انشاءاللہ اجر وثواب ملے گا، لیکن اس کے ساتھ یہ کرو کہ کبھی نہ بھی جاؤ، لہذا
اہتمام اور التزام نہ کرو، پابندی نہ کرو۔ یہ در حقیقت دین کی سمجھ کی بات ہے۔ کہ
جو جیز جس درجہ میں ثابت ہو، اس کو اسی درجہ میں رکھو، اس سے آگے مت بڑھاؤ۔ اور
اس کے علاوہ دوسری نفل عبادت ادا کرلو۔
(اصلاحی خطبات، ج۴، ص۲۶۵)
No comments:
Post a Comment