بقلم مبارک حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا سہارنپوری رحمہ اللہ
حضرت سعید بن المسیبؒ مشہور تابعی ہیں، بڑے محدثین میں شمار ہیں، ان
کی خدمت میں ایک شخص عبد اللہ بن ابی وداعہؒ کثرت سے حاضر ہوا کرتے تھے، ایک مرتبہ
چند روز حاضر نہ ہوسکے کئی روز کے بعد جب حاضر ہوئے تو حضرت سعید نے دریافت فرمایا
کہاں تھے، عرض کیا کہ میری بیوی کا انتقال ہو گیا ہے اس کی وجہ سے مشاغل میں پھنسا
رہا، فرمایا کہ ہم کو خبر نہ کی ہم بھی جنازہ میں شریک ہوتے، تھوڑی دیر کے بعد میں
اٹھ کر آنے لگا، فرمایا دوسرا نکاح کر لیا؟ میں نے عرض کیا، حضرت مجھ سے کون نکاح
کردے گا، دو تین آنے کی میری حیثیت ہے، آپ نے فرمایا ہم کردیں گے، اور یہ
کہہ کر خطبہ بڑھا اور اپنی بیٹی کا نکاح نہایت معمولی مہر آٹھ دس آنے پر مجھ سے کر
دیا (اتنی مقدار مہر کی ان کے نزدیک جائز ہوگی، جیسا کہ بعض اماموں کا مذہب ہے،
حنفیہ کے نزدیک ڈھائی روپئے سے کم جائز نہیں)